بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع سکما میں ناکارہ اور باقی ماندہ دھماکہ خیز مواد کو تلف کرنے کے دوران ایک حادثہ پیش آیا، جس میں مرکزی ریزرو پولیس فورس یعنی سی آر پی ایف کے 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق اہلکار دھماکہ خیز مواد کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے کام میں مصروف تھے کہ اچانک دھماکا ہوگیا۔ اس واقعے میں 2 اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کو شدید چوٹیں آئیں، جبکہ دیگر زخمی اہلکاروں کو بھی علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کے فوراً بعد زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات، 8 اکتوبر کی شام ضلع سکما میں بھیجی پولیس تھانے کی حدود میں ایلرمڈگو سکیورٹی کیمپ کے قریب پیش آیا۔ دھماکہ خیز مواد کی جانچ اور اسے تلف کرنے کے لیے ایک خصوصی تکنیکی ٹیم وہاں پہنچی تھی۔ ٹیم کا مقصد علاقے کے مختلف سکیورٹی کیمپوں کا معائنہ کرنا اور وہاں موجود ناکارہ یا باقی ماندہ دھماکہ خیز مواد کو مقررہ حفاظتی اصولوں کے مطابق تلف کرنا تھا۔ اسی کارروائی کے دوران اچانک دھماکا ہوا، جس سے موقع پر موجود 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔
زخمی اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ سب انسپکٹر ایم کے تیواری، انسپکٹر امرناتھ مشرا، اسسٹنٹ سب انسپکٹر انیس خان اور ہیڈ کانسٹیبل کلدیپ راج کے طور پر کی گئی ہے۔ ایم کے تیواری اور امرناتھ مشرا دھماکہ خیز مواد سے متعلق تکنیکی ٹیم کے رکن بتائے گئے ہیں، جبکہ انیس خان اور کلدیپ راج سی آر پی ایف کی 50ویں بٹالین سے وابستہ ہیں۔ حکام کے مطابق دونوں اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ دیگر زخمی اہلکاروں کی طبی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔
دھماکے کے فوراً بعد زخمی اہلکاروں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ اس کے بعد انہیں کونٹا کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ شدید زخمی اہلکاروں کو بہتر طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے دوسرے اسپتال بھیجنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حادثے کے بعد زخمیوں کو بروقت علاج فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، تاکہ ان کی حالت میں بہتری لائی جا سکے اور انہیں ضروری طبی سہولتیں میسر ہوں۔
حکام کے مطابق سی آر پی ایف کی 50ویں بٹالین کی ایمونیشن ٹیکنیکل ٹیم جگدل پور سے کونٹا علاقے کے ایلرمڈگو کیمپ پہنچی تھی۔ ٹیم کو مختلف سکیورٹی کیمپوں میں موجود دھماکہ خیز مواد کا معائنہ کرنے اور ایسے مواد کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، جو استعمال کے قابل نہیں رہا تھا یا کارروائی کے بعد باقی بچ گیا تھا۔ اس طرح کے مواد کو مناسب طریقے سے تلف کرنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ اسے غلط انداز میں رکھنے یا سنبھالنے سے حادثے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ٹیم سکیورٹی کیمپ سے تقریباً 200 میٹر دور بودراج پادر نالے کے قریب دھماکہ خیز مواد تلف کرنے کی کارروائی کر رہی تھی۔ اس دوران مقررہ حفاظتی طریقۂ کار کے مطابق کام کیا جا رہا تھا۔ اسی وقت دھماکہ خیز مواد کا ایک ٹکڑا اڑ کر قریب جا گرا اور اس میں دھماکا ہوگیا۔ اس اچانک دھماکے کے نتیجے میں وہاں موجود 4 اہلکار زخمی ہوئے۔ دستیاب معلومات سے ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دھماکہ خیز مواد کا ٹکڑا کس وجہ سے اڑا یا دھماکے کی اصل تکنیکی وجہ کیا تھی۔
سکما چھتیس گڑھ کے بستر خطے کا حصہ ہے، جہاں سکیورٹی فورسز مختلف حفاظتی ذمہ داریاں اور کارروائیاں انجام دیتی ہیں۔ ایسے علاقوں میں دھماکہ خیز مواد کی جانچ، محفوظ طریقے سے سنبھالنے اور اسے تلف کرنے کے لیے خصوصی تربیت اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناکارہ دھماکہ خیز مواد کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے جیسے تکنیکی کاموں کے دوران بھی اچانک خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایسے کاموں میں حفاظتی آلات کا استعمال، مقررہ اصولوں کی پابندی اور مواد کو احتیاط سے سنبھالنا انتہائی اہم ہے۔
فی الحال زخمی چاروں اہلکاروں کا علاج جاری ہے۔ حکام کے مطابق شدید زخمی دونوں اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کو بہتر علاج کے لیے دوسرے اسپتال منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ دھماکے کی وجوہات اور اس کے حالات سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کے بعد واقعے کی نوعیت واضح ہوسکے گی۔ فی الحال توجہ زخمی اہلکاروں کو مناسب طبی سہولت فراہم کرنے اور ان کی صحت یابی پر مرکوز ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
