سنبھل تشدد معاملے میں سپریم کورٹ نے ملا افروز کو قانونی راحت دی ہے۔ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے قومی سلامتی قانون یعنی NSA کے تحت ان کی احتیاطی حراست کو منسوخ کردیا ہے۔ عدالت نے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کی لاگت بھی عائد کی ہے۔ عدالت کے سامنے اہم سوال یہ تھا کہ کیا پولیس حراست کے دوران دیے گئے مبینہ اعتراف کی بنیاد پر کسی شخص کو احتیاطی حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔
ملا افروز نے اپنی حراست کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس سے پہلے الہ آباد ہائی کورٹ نے جون 2026 میں ان کی درخواست مسترد کردی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے خصوصی اجازت کی درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا۔
یہ معاملہ 2024 میں سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوران ہونے والے تشدد سے متعلق ہے۔ تشدد کے بعد ملا افروز کو اس معاملے میں ملزم بنایا گیا تھا۔ دستیاب عدالتی ریکارڈ اور رپورٹ کے مطابق انہیں 13 اکتوبر 2025 کو قومی سلامتی قانون کی دفعہ 3(2) کے تحت احتیاطی حراست میں لیا گیا تھا۔ اتر پردیش حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ تشدد کے بعد علاقے میں عوامی نظم و نسق متاثر ہوا تھا اور مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے احتیاطی حراست ضروری تھی۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران پولیس حراست میں دیے گئے مبینہ اعتراف کی قانونی حیثیت پر خاص توجہ دی گئی۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے اعتراف کو قومی سلامتی قانون کے تحت احتیاطی حراست کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ احتیاطی حراست کا فیصلہ کرتے وقت متعلقہ افسر کو معاملے سے جڑے دیگر حالات اور دستیاب مواد پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے 8 ستمبر 2026 کو اس معاملے میں سماعت مکمل کرنے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ 29 ستمبر 2026 کو فیصلے کی اطلاع سامنے آئی، جس میں ملا افروز کی احتیاطی حراست منسوخ کرنے اور اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کی لاگت عائد کرنے کی بات سامنے آئی۔
احتیاطی حراست عام فوجداری کارروائی سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کا مقصد کسی شخص کو مستقبل میں ایسی سرگرمیوں سے روکنا ہوتا ہے جنہیں عوامی نظم و نسق یا قانون میں بیان کردہ دیگر مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھا جائے۔ چونکہ اس طرح کی حراست عام فوجداری مقدمے میں جرم ثابت ہونے سے پہلے بھی ہوسکتی ہے، اس لیے قانون میں اس عمل کے لیے مختلف طریقہ کار اور حفاظتی اصول مقرر کیے گئے ہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے جون 2026 کے اپنے فیصلے میں اس وقت حراست کے حکم کو ریکارڈ پر موجود مواد اور متعلقہ افسر کی اطمینان کی بنیاد پر برقرار رکھا تھا۔ بعد میں ملا افروز نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جہاں قومی سلامتی قانون کے تحت ان کی احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا گیا۔
سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد ملا افروز کی قومی سلامتی قانون کے تحت احتیاطی حراست ختم ہوگئی ہے۔ تاہم اس فیصلے کو سنبھل تشدد سے متعلق ان کے خلاف موجود ہر فوجداری الزام یا کارروائی کے حتمی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ فیصلہ بنیادی طور پر قومی سلامتی قانون کے تحت کی گئی احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت اور اس کی بنیاد سے متعلق ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
