تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
سلی گوڑی میں گائے چوری کے شبہ میں دو نوجوان ہلاک، گاڑی نذر آتش


مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں گائے چوری کے شبہ میں تشدد کا ایک سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ مٹی گڑہ بلاک کے شیومندر-تاراباری علاقے میں ہفتہ کی صبح تین نوجوانوں کو مبینہ طور پر مویشی چوری کے شبہ میں مقامی لوگوں نے گھیر لیا، جس کے بعد صورتحال اچانک پرتشدد ہوگئی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق مشتعل ہجوم نے تین نوجوانوں کے ساتھ مبینہ طور پر شدید مارپیٹ کی۔ اس تشدد میں دو نوجوانوں کی موت ہوگئی جبکہ تیسرا نوجوان شدید زخمی ہوگیا۔ زخمی نوجوان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاع ہے۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور ہلاک ہونے والے دونوں نوجوانوں اور زخمی شخص کی شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ تینوں نوجوان وہاں کس مقصد سے موجود تھے اور واقعے سے پہلے اور بعد میں اصل میں کیا ہوا۔

 گاڑیوں میں توڑ پھوڑ، پک اپ کو آگ لگائی گئی

واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ مشتعل لوگوں نے دو گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی۔ ان میں سے ایک پک اپ گاڑی کو مبینہ طور پر آگ کے حوالے کردیا گیا، جبکہ دوسری گاڑی کو بھی آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی باگ ڈوگرا اور مٹی گڑہ تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی۔ سلی گوڑی میٹروپولیٹن پولیس کے سینئر افسران بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔

پولیس اب گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان اور آگ لگانے کے واقعے کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ علاقے میں مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے پولیس کی موجودگی بڑھائی گئی ہے۔

 مویشی چوری کے واقعات سے مقامی لوگوں میں تشویش

مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ سلی گوڑی شہر اور اس کے آس پاس کے دیہی علاقوں میں گزشتہ کئی ماہ سے مویشی چوری کے واقعات کو لے کر تشویش پائی جا رہی تھی۔ بعض مقامی افراد کا الزام ہے کہ کچھ مشتبہ لوگ رات کے وقت گاڑیوں کے ذریعے دیہی علاقوں میں پہنچتے اور مبینہ طور پر مویشی چوری کرکے لے جاتے تھے۔

مقامی لوگوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض علاقوں میں ہفتے کے دوران دو سے تین مویشی چوری کے واقعات سامنے آ رہے تھے۔ تاہم ان دعوؤں اور مبینہ چوری کے واقعات کی مکمل حقیقت پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوگی۔

مویشی پالنے والے خاندانوں کے درمیان بھی مبینہ چوری کے واقعات کو لے کر تشویش بتائی جا رہی تھی۔ اسی وجہ سے رات کے وقت دیہی علاقوں میں کسی مشتبہ گاڑی کی موجودگی سے مقامی لوگوں میں شک پیدا ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔

مشتبہ گاڑی کا پیچھا کرنے کے بعد حالات بگڑے

ابتدائی معلومات کے مطابق جمعہ کی رات شیومندر سے متصل تاراباری علاقے میں کچھ مقامی لوگوں نے ایک گاڑی کو مشتبہ حالت میں گھومتے دیکھا۔ لوگوں کو شبہ ہوا کہ گاڑی میں موجود افراد مویشی چوری کے مقصد سے علاقے میں آئے ہیں۔

اس کے بعد کچھ لوگوں نے گاڑی کا پیچھا شروع کردیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ گاڑی میں موجود افراد وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن مقامی لوگوں نے ان کا پیچھا جاری رکھا اور بالآخر گاڑی کو گھیر لیا۔

اس کے بعد صورتحال تیزی سے خراب ہوگئی۔ گاڑیوں میں توڑ پھوڑ شروع ہوگئی اور گاڑی میں موجود نوجوانوں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ اسی دوران تین نوجوان مبینہ طور پر ہجوم کے تشدد کا شکار ہوئے، جس کے نتیجے میں دو کی موت ہوگئی جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا۔

پولیس تمام پہلوؤں کی تحقیقات میں مصروف

اس واقعے میں پولیس کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جن نوجوانوں کو گائے چوری کے شبہ میں پکڑا گیا، کیا وہ واقعی کسی جرم میں ملوث تھے یا صرف شک کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنایا گیا۔ پولیس اسی پہلو سمیت واقعے کے تمام حقائق کی جانچ کر رہی ہے۔

پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہجوم میں کون کون لوگ شامل تھے، تشدد کس طرح شروع ہوا اور گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور آگ لگانے میں کن افراد کا کردار تھا۔

فی الحال واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی شناخت، زخمی شخص کی حالت اور واقعے کے پس پردہ اصل وجہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ واضح ہونے کی توقع ہے۔ انتظامیہ کے سامنے اس وقت علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور مزید کشیدگی کو روکنے کا اہم چیلنج ہے۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·