دبئی سے تل ابیب جانے والے فلائی دبئی کے ایک مسافر طیارے نے بدھ کی صبح ایمرجنسی سگنل بھیجا، جس کے بعد کچھ دیر کے لیے سیکیورٹی الرٹ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ طیارے کے ہائی جیک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا، جس کے بعد اسرائیلی سیکیورٹی حکام نے طیارے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا شروع کردی۔ تاہم بعد میں حکام نے واضح کیا کہ طیارہ ہائی جیک نہیں ہوا تھا۔
یہ طیارہ متحدہ عرب امارات کے دبئی سے صبح تقریباً 7 بج کر 5 منٹ پر روانہ ہوا تھا۔ اسے اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پر تقریباً 9 بج کر 30 منٹ پر لینڈ کرنا تھا۔ تاہم دوران پرواز طیارے کے روٹ میں تبدیلی کی گئی اور اسے سعودی عرب کی سمت موڑ دیا گیا۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب طیارے سے پہلے7700 اور پھر 7500کوڈ نشر کیے گئے۔ ہوا بازی میں 7700 عام ایمرجنسی کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ 7500 کوڈ عام طور پر ممکنہ ہائی جیک یا غیر قانونی مداخلت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
7500 کوڈ سامنے آنے کے بعد سیکیورٹی حکام فوری طور پر متحرک ہوگئے۔ اسرائیلی حکام نے طیارے کی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کیا اور اس بات کی نگرانی کی گئی کہ آیا طیارے کے اندر کوئی سیکیورٹی خطرہ موجود ہے یا نہیں۔
طیارے کا رخ سعودی عرب کی طرف موڑا گیا
ایمرجنسی سگنل کے بعد طیارے کو سعودی عرب کی طرف موڑ دیا گیا۔ طیارے کی بلندی بھی کم کی گئی تاکہ اسے کسی مناسب ایئرپورٹ پر بحفاظت اتارا جاسکے۔
اس دوران طیارہ کچھ وقت کے لیے عوامی فلائٹ ٹریکنگ سسٹم سے غائب ہوگیا۔ اس پیش رفت کے بعد طیارے کی صورتحال کو لے کر تشویش مزید بڑھ گئی۔ تاہم بعد میں سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ طیارہ سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
کچھ دیر بعد طیارہ تبوک میں بحفاظت لینڈ کر گیا۔ لینڈنگ کے بعد طیارہ عوامی فلائٹ ٹریکنگ سسٹم پر دوبارہ نظر آنے لگا۔ اس کے بعد مسافروں کی حفاظت سے متعلق ابتدائی خدشات بھی کم ہوگئے۔پائلٹوں کے درمیان تنازع کی بات سامنے آئی
بعد کی معلومات میں بتایا گیا کہ طیارے میں موجود پائلٹوں کے درمیان تنازع کے دوران ایمرجنسی سگنل بھیجا گیا تھا۔ اسی صورتحال کے باعث طیارے نے ہنگامی سگنل نشر کیا اور بعد میں اس کا رخ سعودی عرب کی طرف موڑ دیا گیا۔
ابتدائی طور پر ہائی جیک کا خدشہ بنیادی طور پر 7500 کوڈ کی وجہ سے پیدا ہوا تھا، کیونکہ یہ کوڈ عام طور پر ممکنہ طیارہ ہائی جیک ہونے کی صورت میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیلی حکام نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور فوری طور پر سیکیورٹی پروٹوکول فعال کیے۔
تاہم بعد میں حکام نے واضح کیا کہ طیارہ ہائی جیک نہیں ہوا تھا اور اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
نیتن یاہو اور وزیر دفاع کی ہنگامی میٹنگ
ایمرجنسی سگنل موصول ہونے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سیکیورٹی حکام کے ساتھ ہنگامی مشاورتی میٹنگ کی۔ اجلاس میں طیارے کی صورتحال اور ممکنہ سیکیورٹی خطرے کا جائزہ لیا گیا۔
بعد میں سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ طیارہ ہائی جیک ہونے کی کوئی پختہ اطلاع موجود نہیں تھی۔ حکام کے مطابق پائلٹ کی جانب سے بحران یا ایمرجنسی کا سگنل بھیجے جانے کے بعد سیکیورٹی ادارے متحرک ہوئے تھے۔
طیارے کے سعودی عرب کی طرف جانے اور بحفاظت لینڈ کرنے کی تصدیق کے بعد صورتحال میں بہتری آئی۔ سیکیورٹی اداروں نے طیارے کے لینڈ ہونے تک اس کی نگرانی جاری رکھی۔
7500 اور 7700 کوڈ کیا ہوتے ہیں؟
ہوا بازی میں طیارے کے ٹرانسپونڈر کے ذریعے مختلف کوڈز نشر کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے ایئر ٹریفک کنٹرول کو طیارے کی صورتحال سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ *7700* عام ایمرجنسی کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب *7500* کوڈ ممکنہ ہائی جیک یا طیارے میں غیر قانونی مداخلت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس واقعے میں دونوں کوڈز نشر ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی حکام نے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
تاہم بعد کی معلومات کے مطابق طیارہ ہائی جیک نہیں ہوا تھا۔ ایمرجنسی سگنل اور طیارے کے اندر پائلٹوں کے درمیان پیش آنے والی صورتحال نے اس واقعے کو سیکیورٹی الرٹ میں تبدیل کردیا تھا۔
150 سے زائد مسافر طیارے میں سوار تھے
اطلاعات کے مطابق طیارے میں 150 سے زائد مسافر سوار تھے۔ سعودی عرب میں طیارے کے بحفاظت لینڈ کرنے کے بعد مسافروں کی فوری حفاظت سے متعلق خدشات کم ہوگئے۔
یہ واقعہ اس لیے بھی اہم رہا کیونکہ طیارہ دبئی سے تل ابیب جا رہا تھا، لیکن دوران پرواز اچانک اس کا روٹ تبدیل ہوگیا اور ایمرجنسی کوڈز نشر کیے گئے۔
فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق طیارہ ہائی جیک نہیں ہوا تھا۔ ایمرجنسی سگنل کے بعد سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کی، طیارے کو سعودی عرب کی طرف موڑا گیا اور اسے تبوک میں بحفاظت اتار لیا گیا۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
