تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
ٹرمپ کے 5000 ڈالر کے وعدے پر ڈی کے شیوکمار کا طنز، ہماری نقل کر رہے ہیں


کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 5000 ڈالر دینے کے وعدے کو لے کر سیاسی طنز کیا ہے۔ شیوکمار نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی کئی ریاستوں میں کانگریس کی جانب سے چلائے جانے والے فلاحی پروگراموں کے بعد اب امریکہ میں بھی اسی طرح کی پالیسیوں پر بات ہو رہی ہے۔

ڈی کے شیوکمار کا یہ بیان ٹرمپ کے اس وعدے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر اس سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی امریکی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5000 ڈالر دینے کی تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔

شیوکمار نے ٹرمپ کے اس بیان کو کانگریس کے فلاحی ماڈل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں عوام کو براہ راست مالی مدد فراہم کرنے والی اسکیمیں پہلے ہی نافذ کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق اب امریکہ میں بھی اسی طرح کی سوچ نظر آ رہی ہے۔

ٹرمپ کے 5000 ڈالر والے وعدے پر بحث

ٹرمپ کی جانب سے 5000 ڈالر دینے کی بات سامنے آنے کے بعد امریکہ میں اس تجویز کو لے کر سیاسی اور معاشی بحث شروع ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے اس وعدے کو وسط مدتی انتخابات کے نتائج اور ریپبلکن پارٹی کے کانگریس پر کنٹرول برقرار رکھنے سے جوڑا ہے۔

تاہم اس طرح کی کسی بھی تجویز کو عملی شکل دینے کے لیے اس کے مالی وسائل، اہل افراد اور ادائیگی کے طریقۂ کار سمیت کئی اہم معاملات طے کرنا ہوں گے۔ فی الحال یہ معاملہ سیاسی بحث کا حصہ ہے۔

شیوکمار نے اسی بیان کو بنیاد بناتے ہوئے کانگریس کے فلاحی ماڈل کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کو براہ راست مالی مدد فراہم کرنے والی اسکیمیں بھارت میں کانگریس کی سیاست کا اہم حصہ رہی ہیں۔

بھارتی ریاستوں کی فلاحی اسکیموں کا حوالہ

ڈی کے شیوکمار نے اپنی بات صرف کرناٹک تک محدود نہیں رکھی بلکہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں چلنے والی فلاحی اسکیموں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عوام کو براہ راست اقتصادی مدد دینے والے پروگراموں نے بھارتی سیاست میں ایک اہم جگہ بنائی ہے۔

کرناٹک میں بھی کانگریس حکومت کئی فلاحی اسکیموں کو اپنی حکومت کی اہم ترجیحات کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ان پروگراموں کا مقصد عام خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرنا اور ان کی روزمرہ ضروریات میں تعاون کرنا ہے۔

شیوکمار نے ٹرمپ کے اعلان کو اسی وسیع فلاحی سیاست کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب اسی طرح کا ماڈل امریکہ میں بھی زیر بحث ہے۔

بھارت میں سیاسی بحث تیز

شیوکمار کا یہ بیان بھارت میں فلاحی اسکیموں کو لے کر جاری سیاسی بحث کا بھی حصہ ہے۔ کانگریس عام طور پر مالی مدد اور سماجی تحفظ کی اسکیموں کو عوامی فلاح کا اہم ذریعہ قرار دیتی ہے۔

دوسری جانب سیاسی مخالفین فلاحی اسکیموں سے سرکاری خزانے پر پڑنے والے بوجھ اور ان کی طویل مدتی پائیداری پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ٹرمپ کے بیان کو کانگریس کے فلاحی ماڈل سے جوڑنے کا شیوکمار کا فیصلہ سیاسی طور پر بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اب یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکہ میں 5000 ڈالر کی ادائیگی سے متعلق تجویز کو آگے کس طرح بڑھایا جاتا ہے اور کیا اسے باقاعدہ پالیسی یا پروگرام کی شکل دی جاتی ہے۔ فی الحال ٹرمپ کا بیان سیاسی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور شیوکمار نے اس پر بھارت کی فلاحی سیاست کے حوالے سے اپنا ردعمل دیا ہے

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·