تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
راہل گاندھی کا دعویٰ، حکومت کے 200 افسران ہمارے رابطے میں ہیں


لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کے خلاف ایک اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے تقریباً 200 افسران ان کے رابطے میں ہیں اور انہیں مسلسل معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق ان افسران میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED)، مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) اور وزارت خارجہ سے وابستہ افسران بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مسلسل پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور حکومت کے اندر سے بھی مختلف معاملات کی معلومات ان تک پہنچ رہی ہیں۔

تاہم، راہل گاندھی کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے اور متعلقہ محکموں کی جانب سے اس بیان پر ردعمل کی معلومات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنے بیان میں ان افسران کے نام، عہدے یا ان کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کی تفصیلات عوامی طور پر پیش نہیں کیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مبینہ ووٹ چوری، انتخابی شفافیت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار کو لے کر اپوزیشن مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر مسلسل سوال اٹھا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے دہلی میں حفاظتی انتظامات پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری تعیناتی اور نقل و حرکت سے متعلق پابندیوں سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 حکومت کے 200 افسران رابطے میں ہونے کا دعویٰ

راہل گاندھی نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت کے تقریباً 200 افسران ان کے رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق یہ افسران انہیں مسلسل پیغامات بھیج رہے ہیں اور مختلف معاملات سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے خاص طور پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، مرکزی تفتیشی بیورو اور وزارت خارجہ سے وابستہ افسران کا ذکر کیا۔

اس دعوے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مبینہ طور پر معلومات کس نوعیت کی ہیں اور ان کا تبادلہ کن حالات میں ہو رہا ہے۔ تاہم، راہل گاندھی نے ان افسران کے نام، عہدے یا ان کی ذمہ داریوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ اس لیے دعوے کی حقیقت اور اس کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے آزادانہ تصدیق اور متعلقہ محکموں کا ردعمل اہم ہوگا۔

راہل گاندھی نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے پیغامات موصول ہو رہے تھے۔ تاہم، ان پیغامات کے مواد، نوعیت اور ان سے متعلق حالات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس معاملے کی مکمل صورت حال متعلقہ فریقوں کے ردعمل اور قابل تصدیق معلومات سے ہی واضح ہو سکے گی۔

 دہلی کے حفاظتی انتظامات پر راہل گاندھی کے سوالات

راہل گاندھی نے دہلی میں جاری احتجاج کے دوران حفاظتی انتظامات پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دارالحکومت کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق لوگوں کو دہلی آنے سے روکا جا رہا ہے اور ٹرینوں و بسوں سے سفر کرنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں مختلف مقامات پر پولیس کی تعیناتی اور رکاوٹوں کی وجہ سے عام شہریوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ دہلی میں ہر طرف پولیس نظر آ رہی ہے اور دارالحکومت کو ایک قلعے کی طرح بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران اختیار کیے گئے انتظامات جمہوری طریقے سے اختلاف ظاہر کرنے کے حق کو متاثر کر رہے ہیں۔

پولیس کی تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سڑکوں پر 20,000 سے 30,000 پولیس اہلکار تعینات ہوں تاکہ ملک کے سامنے صورت حال واضح ہو سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اس طرح کے انتظامات کرکے بڑی غلطی کر رہی ہے۔ یہ راہل گاندھی کے الزامات اور سیاسی تبصرے ہیں؛ حفاظتی انتظامات کی وجوہات اور ان کے اثرات کا جائزہ متعلقہ سرکاری معلومات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر تنقید

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے بارے میں بھی سخت تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ کیوں نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹ چوری کے معاملے کو مسلسل اٹھا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ان کے مطابق دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے بھی اس نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے تھے۔

راہل گاندھی نے گیانیش کمار پر بدعنوانی سے متعلق الزامات لگائے اور کہا کہ اپوزیشن ان کے ماضی اور کردار کے بارے میں سوالات اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری مہم کی وجہ سے چیف الیکشن کمشنر پر دباؤ ہے۔ تاہم، یہ الزامات راہل گاندھی کے بیان کا حصہ ہیں اور آزادانہ ثبوت کے بغیر انہیں ثابت شدہ حقائق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

 سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرنے کی تیاری

راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے کانگریس صدر کے ساتھ مل کر چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھا تھا۔ اس خط میں بھارتی جمہوریت اور انتخابات کی شفافیت کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ راہل گاندھی کے مطابق چیف جسٹس کی جانب سے جواب موصول ہوا اور انہیں عرضی دائر کرنے کی ہدایت دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ انڈیا اتحاد کے رہنما ان کے ساتھ سپریم کورٹ جائیں گے اور عرضی دائر کریں گے۔ ان کے مطابق اپوزیشن انتخابی شفافیت اور مبینہ ووٹ چوری سے متعلق اپنے سوالات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتی ہے تاکہ انتخابی نظام سے متعلق معاملات میں جواب دہی یقینی بنائی جا سکے۔

عرضی کے اصل مندرجات، اس کے دائر ہونے کی صورت حال اور عدالت میں آئندہ کارروائی کی تصدیق سرکاری ریکارڈ سے ہی کی جا سکتی ہے۔ فی الحال راہل گاندھی نے کہا ہے کہ اپوزیشن اس معاملے کو قانونی طور پر آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

 پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کے بارے میں دعویٰ

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ انہیں بعض پولیس اہلکاروں کی جانب سے حمایت ملنے کی بات بتائی گئی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 50 فیصد پولیس اہلکار اپوزیشن سے کہہ رہے ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہی ہے، وہ درست ہے اور اسے جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے پولیس، انڈو تبتن بارڈر پولیس (ITBP)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) اور عوام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں بہت سے لوگ انتخابی شفافیت کے بارے میں اپوزیشن کے خدشات کو سمجھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے بعض ارکان پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ افراد مبینہ ووٹ چوری اور ملک کے جمہوری نظام کو متاثر کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان الزامات کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ردعمل اور آزادانہ طور پر قابل تصدیق شواہد اہم ہوں گے۔

 انتخابی شفافیت پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ

راہل گاندھی کے تازہ بیان کے بعد مبینہ ووٹ چوری اور انتخابی شفافیت کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ اپوزیشن جہاں الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھا رہی ہے، وہیں حکومت کے افسران کے رابطے میں ہونے سے متعلق راہل گاندھی کے دعوے نے بھی سیاسی بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

دہلی میں احتجاج کے دوران حفاظتی انتظامات اور آمدورفت پر مبینہ پابندیوں کو لے کر بھی اپوزیشن حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اب مجوزہ سپریم کورٹ عرضی، متعلقہ فریقوں کے ردعمل اور راہل گاندھی کے دعووں سے متعلق سرکاری معلومات پر نظر رہے گی۔ آئندہ صورت حال عدالت کی کارروائی، سرکاری بیانات اور قابل تصدیق شواہد کی بنیاد پر واضح ہوگی۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·