نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنما ابھیجیت دیپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی سربراہ نیہا بورا کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ہنگامہ ہوگیا۔ پریس کانفرنس میں موجود کچھ لوگوں نے نعرے بازی شروع کردی، جس سے پروگرام میں خلل پڑا۔ اس دوران ’بند کرو‘ اور ’دفع ہو جاؤ‘ جیسے نعرے سنائی دیے۔ صورتحال کے بعد نیہا بورا نے منتظمین سے کہا کہ ہنگامہ کرنے والے افراد کو باہر نکالا جائے تاکہ پریس کانفرنس آگے بڑھ سکے۔
یہ واقعہ سی جے پی کے مجوزہ ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاجی مارچ سے ایک دن پہلے پیش آیا۔ پریس کانفرنس میں ہونے والی نعرے بازی نے تنظیم کی سرگرمیوں اور دہلی میں جاری احتجاجی ماحول کے حوالے سے بحث کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تاہم، دستیاب معلومات میں نعرے لگانے والے افراد کی شناخت، ان کے احتجاج کی وجہ اور اس کے بعد منتظمین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران کیا ہوا؟
دستیاب تفصیلات کے مطابق، ابھیجیت دیپکے اور نیہا بورا میڈیا سے مشترکہ طور پر بات کررہے تھے کہ اسی دوران کچھ لوگوں نے نعرے لگانا شروع کردیا۔ ’بند کرو‘ اور ’دفع ہو جاؤ‘ جیسے الفاظ سنائی دیے۔ اس خلل کے بعد نیہا بورا نے منتظمین سے مداخلت کرنے اور ہنگامہ کرنے والے افراد کو باہر نکالنے کے لیے کہا۔
پریس کانفرنس کا مقصد سی جے پی کے آئندہ احتجاجی مارچ اور دہلی میں گزشتہ دنوں طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج سے متعلق مسائل پر میڈیا کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنا تھا۔ تاہم، نعرے بازی کے باعث توجہ پریس کانفرنس کے موضوع سے ہٹ کر وہاں ہونے والے ہنگامے اور منتظمین کے ردعمل پر مرکوز ہوگئی۔
عوامی پریس کانفرنسوں میں بعض اوقات اس وقت کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے جب موجود افراد مقررین یا پروگرام کے موضوع سے اختلاف کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں منتظمین کے لیے پروگرام کو منظم رکھنا اور صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنا اہم ہوتا ہے۔ اس واقعے میں نیہا بورا نے منتظمین سے ہنگامہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی۔
تاہم، دستیاب تفصیلات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس درخواست کے بعد کیا کارروائی کی گئی۔ نعرے لگانے والے افراد کی شناخت اور ان کی وابستگی کے بارے میں بھی مکمل معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ابھیجیت دیپکے نے حکومت اور انتظامیہ پر کیا الزامات لگائے؟
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی جے پی رہنما ابھیجیت دیپکے نے دہلی میں گزشتہ 10 سے 15 دنوں سے جاری طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کو زبردستی ہٹا رہی ہے۔ دیپکے کے مطابق، مظاہرین کو اپنی بات رکھنے اور احتجاج درج کرانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دیپکے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ احتجاج کے دوران اپوزیشن کے کئی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے ممتا بنرجی، اروند کیجریوال اور پنارائی وجین جیسے سابق وزرائے اعلیٰ کے ناموں کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات سے احتجاج کرنے والے افراد کے ساتھ انتظامیہ کے برتاؤ پر سوالات اٹھتے ہیں۔
سی جے پی رہنما کی تنقید کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ طلبہ اور نوجوانوں کو اپنے مطالبات پیش کرنے اور اختلاف رائے ظاہر کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے انتظامیہ کی مبینہ کارروائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کے حقوق اور ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر توجہ دلائی۔
تاہم، حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد، ہر واقعے کے حالات اور کارروائی کی قانونی بنیاد کے بارے میں دستیاب تفصیلات مکمل نہیں ہیں۔ ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے سرکاری بیانات اور متعلقہ واقعات کے قابل اعتماد ریکارڈ کو دیکھنا ضروری ہے۔ فی الحال دیپکے کے الزامات کو ان کے بیان کے طور پر ہی پیش کیا جانا چاہیے۔
’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے سیاسی سرگرمیاں تیز
پریس کانفرنس میں ہنگامہ سی جے پی کے مجوزہ ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاجی مارچ سے ایک دن پہلے ہوا۔ اس وقت تنظیم کی سرگرمیوں اور دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے ماحول پر توجہ مرکوز تھی۔ پریس کانفرنس میں نعرے بازی کے واقعے نے اس سیاسی سرگرمی کو مزید بحث کا موضوع بنا دیا۔
ابھیجیت دیپکے نے اپنی گفتگو میں طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج اور انتظامیہ کی کارروائی کو اہم مسئلہ قرار دیا۔ ان کا الزام تھا کہ دہلی میں گزشتہ دنوں مظاہرین کو ہٹایا گیا اور اپوزیشن کے کچھ رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔ ان کے مطابق، ان واقعات پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔
دوسری جانب، پریس کانفرنس میں نعرے لگانے والے افراد کے مؤقف اور ان کے احتجاج کی وجوہات کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے واقعے کے تمام پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے منتظمین، نعرے لگانے والے افراد اور متعلقہ انتظامیہ کا ردعمل اہم ہوگا۔
طلبہ کی تحریک اور احتجاج کے حق پر بحث
دہلی میں پیش آنے والے اس واقعے نے طلبہ کی تحریکوں، انتظامیہ کی کارروائی اور عوامی پروگراموں کے انتظام جیسے موضوعات کو ایک بار پھر سامنے لا دیا ہے۔ سیاسی اور طلبہ تنظیمیں اکثر احتجاج اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کرتی ہیں اور حکومتی فیصلوں پر سوال اٹھاتی ہیں۔
اسی طرح، جب کسی پروگرام میں موجود افراد مقررین یا ان کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں تو نعرے بازی یا احتجاج کے باعث پروگرام میں خلل پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں منتظمین اور متعلقہ حکام کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ صورت حال کو سنبھالیں اور اختلاف کو مزید کشیدگی میں تبدیل ہونے سے روکیں۔
سی جے پی کی پریس کانفرنس میں فوری طور پر سامنے آنے والا معاملہ نعرے بازی اور نیہا بورا کی جانب سے منتظمین کو دی گئی ہدایت تھا۔ اس کے ساتھ ہی دیپکے نے دہلی میں طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کے حوالے سے انتظامیہ پر الزامات لگائے۔
مظاہرین کو زبردستی ہٹانے اور اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لینے سے متعلق دعوؤں کی تصدیق کے لیے ہر واقعے کی تفصیلات الگ سے دیکھنا ضروری ہے۔ دستیاب معلومات میں دیپکے کے الزامات درج ہیں، لیکن ان کے بیان میں بیان کیے گئے تمام واقعات کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں ہے۔
ہنگامے کی وجوہات پر مزید تفصیلات کا انتظار
پریس کانفرنس میں نعرے بازی کے باعث پروگرام توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب سی جے پی اپنے مجوزہ احتجاجی مارچ کی تیاریوں اور حالیہ احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے میڈیا سے بات کررہی تھی۔
دستیاب معلومات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کچھ لوگوں نے نعرے لگائے، نیہا بورا نے منتظمین سے مداخلت کرنے کو کہا اور ابھیجیت دیپکے نے دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ مبینہ انتظامی کارروائی پر تنقید کی۔
تاہم، نعرے لگانے والے افراد کون تھے، وہ کس وجہ سے احتجاج کررہے تھے اور اس کے بعد کیا کارروائی ہوئی، ان سوالات کے جواب کے لیے مزید معلومات درکار ہیں۔ منتظمین، متعلقہ افراد اور انتظامیہ کے بیانات سامنے آنے کے بعد واقعے کی زیادہ واضح تصویر سامنے آسکتی ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
