*Main Body:*
ترنمول کانگریس یعنی TMC کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق تنازع پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ پارٹی کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق تنازع کو کب تک حل کیا جاسکتا ہے۔
یہ معاملہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست سے متعلق ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے معاملے کے حل کے لیے ممکنہ وقت کی حد بتانے کو کہا۔
تنازع آل انڈیا ترنمول کانگریس یعنی AITC سے وابستہ دو دھڑوں کے درمیان ہے۔ دونوں جانب سے پارٹی کی شناخت، نام اور انتخابی نشان پر دعوے کیے جارہے ہیں۔ معاملہ فی الحال الیکشن کمیشن کے سامنے زیر غور ہے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پیر تک یہ بتانے کا وقت دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو کب تک حل کرسکتا ہے۔ عدالت کی جانب سے وقت کی حد کے بارے میں معلومات طلب کیے جانے کے بعد اب الیکشن کمیشن کو اپنی کارروائی اور متوقع مدت کے بارے میں وضاحت دینی ہوگی۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے شیو سینا کے دھڑوں کے درمیان ہوئے تنازع کا بھی حوالہ دیا۔ شیو سینا کے معاملے میں بھی پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کو لے کر دو دھڑوں کے درمیان اختلاف سامنے آیا تھا۔
### مغربی بنگال کے ضمنی انتخابات سے پہلے معاملہ اہم
TMC کے نام اور انتخابی نشان کا تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں۔ نندی گرام اور ریجینگر اسمبلی نشستوں پر 6 اکتوبر 2026 کو ضمنی انتخابات ہونے ہیں، جبکہ نتائج 9 اکتوبر کو جاری کیے جائیں گے۔
انتخابی عمل میں پارٹی کا نام اور انتخابی نشان اہم حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ ووٹرز کے لیے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی شناخت میں ان کا استعمال ہوتا ہے۔
پارٹی کے اندر جاری دھڑے بندی کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے AITC کے نام اور اس کے روایتی ‘پھول اور گھاس’ انتخابی نشان کے استعمال سے متعلق عبوری انتظام کیا ہے۔
موجودہ عبوری انتظام کے تحت ممتا بنرجی سے وابستہ دھڑے کو ضمنی انتخابات کے لیے عارضی طور پر ‘ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس’ نام اور ‘فٹبال کھلاڑی’ کا انتخابی نشان دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ارُوپ رائے سے وابستہ دھڑے کو ‘ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس’ نام اور ‘لفافہ’ انتخابی نشان دیا گیا ہے۔
یہ انتظام آنے والے ضمنی انتخابات کے تناظر میں عارضی طور پر کیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے نام اور انتخابی نشان پر وسیع تر تنازع کا معاملہ ابھی زیر غور ہے۔
### الیکشن کمیشن کے جواب کا انتظار
سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد اب الیکشن کمیشن کو یہ بتانا ہوگا کہ پارٹی کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق کارروائی مکمل کرنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔
کمیشن کو دونوں دھڑوں کی جانب سے پیش کیے گئے دعووں، دستاویزات اور دیگر متعلقہ معلومات کا جائزہ لینا ہوگا۔
سپریم کورٹ کی موجودہ سماعت میں یہ حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ پارٹی کا نام اور انتخابی نشان کس دھڑے کو ملے گا۔ حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کی کارروائی اور اس کے بعد سامنے آنے والی قانونی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔
اب الیکشن کمیشن کی جانب سے دی جانے والی وقت کی حد اور معاملے میں آگے کی کارروائی اہم ہوگی۔ مغربی بنگال کے آئندہ ضمنی انتخابات سے پہلے اس تنازع کے حل کی سمت پر سیاسی حلقوں اور دونوں دھڑوں کی نظر ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
