میت شاہ کا راہل گاندھی اور اپوزیشن جماعتوں پر حملہ
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دہلی میں ایک پروگرام کے دوران کانگریس رہنما راہل گاندھی، عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال اور دیگر اپوزیشن جماعتوں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات صرف الزامات، احتجاج یا ہنگامہ آرائی کے ذریعے نہیں جیتے جا سکتے۔ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔
راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے امیت شاہ نے الزام لگایا کہ اپوزیشن ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھا کر گھس پیٹھیوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتیں کبھی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور کبھی ووٹر لسٹوں پر سوال اٹھاتی ہیں۔
شاہ کے مطابق، جب اپوزیشن جماعتیں انتخابات جیتتی ہیں تو انہیں انتخابی عمل اور متعلقہ اداروں پر اعتراض نہیں ہوتا، لیکن شکست کے بعد وہی ادارے ان کے نشانے پر آ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے سامنے جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف دھرنے، مظاہرے اور سیاسی بیان بازی سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ حکومتوں کو عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور ان کی مشکلات دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
جمنا کی صفائی کے لیے 9,141 کروڑ روپے کے منصوبے
امیت شاہ نے دہلی میں جمنا کی صفائی اور پانی کی فراہمی سے متعلق منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ پروگرام میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق، مجموعی طور پر 9,141 کروڑ روپے کی لاگت والے 43 منصوبوں پر کام آگے بڑھایا گیا، جن میں 10 منصوبوں کا افتتاح اور 33 منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنا شامل ہے۔
ان منصوبوں کا مقصد گندے پانی کو صاف کرنے کے نظام کو بہتر بنانا، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی صلاحیت بڑھانا، نئی تنصیبات قائم کرنا اور سیور لائنوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینا ہے۔ اس کے ساتھ دہلی کے شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
امیت شاہ نے کہا کہ جمنا کی صفائی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے اہم اہداف میں شامل ہے۔ ان کے مطابق، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ میٹنگیں کی گئیں اور کام کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔
ان منصوبوں کے ذریعے گندے پانی کو دریا میں جانے سے پہلے صاف کرنے اور سیوریج کے بہتر انتظام کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، ان منصوبوں کے حقیقی نتائج کا انحصار ان کی بروقت تکمیل، مناسب دیکھ بھال اور مسلسل نگرانی پر ہوگا۔
مئی 2029 سے پہلے جمنا صاف کرنے کا عزم
امیت شاہ نے اپنے خطاب میں دہرایا کہ حکومت مئی 2029 سے پہلے جمنا کی صفائی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہلی کو ایسا شہر بنانا چاہتی ہے جہاں شہریوں کو صاف پینے کا پانی ملے، سڑکیں اور گلیاں صاف ہوں، کچرے کے ڈھیر کم ہوں اور جمنا کے پانی میں آلودگی بھی کم کی جا سکے۔
شاہ نے کہا کہ دریا کی صفائی صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کی صحت اور معیار زندگی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، سیوریج اور صنعتی فضلے کو بغیر صفائی کے دریا میں جانے سے روکنا ضروری ہے۔
انہوں نے دہلی، ہریانہ، اتر پردیش اور مرکزی حکومت کے درمیان بہتر تال میل پر بھی زور دیا۔ شاہ کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکومتیں مل کر کام کریں تو جمنا کی صفائی سے متعلق منصوبوں کو زیادہ مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
گھروں تک سیور کنکشن اور صاف پانی پہنچانے پر توجہ
پروگرام میں دہلی کی مختلف کالونیوں میں سیوریج کی سہولت بہتر بنانے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ امیت شاہ نے کہا کہ کراری سمیت کئی علاقوں میں گھروں تک سیور کنکشن فراہم کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے، تاکہ گندے پانی کی نکاسی کا نظام بہتر ہو سکے۔
منصوبوں میں موجودہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کو جدید بنانے اور نئے پلانٹس قائم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ان کا مقصد گھروں سے نکلنے والے گندے پانی کو صاف کرنا اور اسے بغیر علاج کے نالوں اور آبی ذخائر میں جانے سے روکنا ہے۔
شاہ نے کہا کہ صاف پینے کا پانی اور مناسب نکاسی کا نظام شہریوں کی بنیادی ضروریات ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ دہلی کے زیادہ سے زیادہ گھروں کو پانی اور سیوریج کی سہولت فراہم کی جائے۔
ان منصوبوں کی کامیابی کا انحصار تعمیراتی کام کی بروقت تکمیل، پلانٹس کے مناسب انتظام اور بنیادی ڈھانچے کی باقاعدہ دیکھ بھال پر ہوگا۔
کچرے کے پہاڑوں کے معاملے پر کیجریوال کو نشانہ بنایا
امیت شاہ نے دہلی میں کچرے کے بڑے ڈھیروں اور صفائی کے نظام کو لے کر سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابقہ حکومتوں نے کچرے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے اور اس معاملے پر سیاست ہوتی رہی۔
شاہ نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی حکومت نے مرکزی حکومت کے تعاون سے تقریباً 2.17 لاکھ ٹن کچرا ہٹایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کچرے کے پہاڑوں کو کم کرنا اور ان علاقوں کو بہتر استعمال کے قابل بنانا ہے۔
کچرے کے بڑے ڈھیر بدبو، آلودگی اور صحت کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے کچرے کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانا، پرانے کچرے کا علاج کرنا اور صفائی کے نظام کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
امیت شاہ نے جمنا کی صفائی سے متعلق کیجریوال کے سابقہ وعدوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلی حکومت کے دور میں اس مسئلے پر مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ ان کے مطابق، موجودہ حکومت جمنا کی صفائی اور دہلی میں بہتر صفائی کے انتظامات پر کام کر رہی ہے۔
کانگریس کی انتخابی حکمت عملی پر امیت شاہ کی تنقید
امیت شاہ نے کانگریس کی انتخابی حکمت عملی اور راہل گاندھی کے بیانات پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے گجرات، مغربی بنگال، تمل ناڈو، دہلی اور آسام سمیت کئی ریاستوں کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس کی انتخابی کارکردگی پر تنقید کی۔
شاہ نے دعویٰ کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی آنے والے کئی برسوں تک سیاسی طور پر مضبوط رہے گی اور اگلے 30 سال تک کانگریس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔ یہ بیان ان کی سیاسی پیش گوئی اور اپوزیشن پر تنقید کا حصہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج کا جائزہ لے کر اپنی کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، انتخابی شکست کے بعد الیکشن کمیشن یا ووٹر لسٹوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے عوام کے درمیان جا کر کام کرنا ضروری ہے۔
شاہ نے یہ بھی کہا کہ جمہوری اداروں کے بارے میں سیاسی جماعتوں کو اپنے فائدے کے مطابق رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، انتخابی نتائج اور آئینی اداروں کے فیصلوں کا احترام کرنا جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔
*راہل گاندھی کے بیرون ملک دوروں پر بھی تبصرہ*
امیت شاہ نے اپنے خطاب میں راہل گاندھی کے بیرون ملک دوروں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کو سمجھنا چاہیے۔
شاہ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کارکنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی مشکلات کو سمجھیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے مطابق، صرف احتجاج اور سیاسی الزامات سے عوام کی زندگی بہتر نہیں ہوتی۔
انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے کہا کہ وہ ان ریاستوں اور علاقوں میں اپنی کارکردگی دکھائیں جہاں انہیں عوام کی حمایت حاصل ہے۔ شاہ کے مطابق، عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لیے عملی نتائج دینا ضروری ہے۔
پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت پر تنقید
امیت شاہ نے پنجاب کی عام آدمی پارٹی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں منشیات کی اسمگلنگ کا مسئلہ بڑھا ہے اور حکومت اسے روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
شاہ نے پیش گوئی کی کہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو سیاسی چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا اور مستقبل میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو حمایت مل سکتی ہے۔ انہوں نے اروند کیجریوال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بہانے بنانے کے بجائے حکومتوں کو اپنے کام کے نتائج دکھانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ منشیات سے متعلق مسائل کو حل کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پنجاب میں منشیات کے کاروبار اور آئندہ انتخابات سے متعلق ان کے بیانات سیاسی الزامات اور پیش گوئیوں پر مبنی ہیں۔
*جمنا کی صفائی دہلی میں ماحولیاتی اور سیاسی بحث کا اہم موضوع*
دہلی میں جمنا کی آلودگی ایک اہم ماحولیاتی، صحت عامہ اور سیاسی مسئلہ رہی ہے۔ دریا میں گندے پانی اور صنعتی فضلے کی آمد کو کم کرنے کے لیے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس، سیور لائنوں اور کچرے کے بہتر انتظام کی ضرورت ہے۔
امیت شاہ نے اپنے خطاب میں جمنا کی صفائی کو حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیا اور مئی 2029 سے پہلے ہدف حاصل کرنے کا عزم دہرایا۔ ان کے بیان کے بعد دریا کی صفائی، سرکاری منصوبوں اور مختلف حکومتوں کی کارکردگی پر سیاسی بحث بھی سامنے آئی ہے۔
اب ان منصوبوں کی تکمیل، گندے پانی کی صفائی کی صلاحیت میں اضافے اور دریا کے پانی کے معیار میں بہتری پر توجہ رہے گی۔ دہلی کے شہریوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ ان منصوبوں سے صاف پانی، بہتر نکاسی اور جمنا کی آلودگی میں کتنی حقیقی کمی آتی ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
