گروگرام کے گالف کورس روڈ پر خاتون بائیک رائیڈر سیا کو کار سے ٹکر مارنے کے معاملے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ اس معاملے میں گرفتار ملزم کلیان بینسلا کے وکیل نے اپنے موکل کا موقف پیش کرتے ہوئے حادثے کے بعد موقع سے چلے جانے کی وجہ بتائی ہے۔
کلیان بینسلا کے وکیل نوین بینسلا کا دعویٰ ہے کہ حادثے کے بعد ان کے موکل کو ہجوم کی جانب سے مارپیٹ کا خوف تھا۔ وکیل کے مطابق کلیان کو خدشہ تھا کہ موقع پر موجود لوگ اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں، اسی وجہ سے وہ وہاں سے چلا گیا۔
وکیل نے حادثے میں شامل بائیک سواروں کی رفتار اور رویے پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بائیک سوار تیز رفتاری سے چل رہے تھے اور انہوں نے کلیان کو مبینہ طور پر اکسایا۔
تاہم یہ تمام دعوے ملزم کے دفاع میں وکیل کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ واقعے کی اصل صورتحال کا تعین تفتیش، ویڈیو شواہد، گواہوں کے بیانات اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہی ہوگا۔
گالف کورس روڈ پر کیا ہوا تھا؟
یہ واقعہ گروگرام کے گالف کورس روڈ پر پیش آیا تھا، جہاں ایک کار نے خاتون بائیک رائیڈر سیا کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی تھی۔ ٹکر کے بعد سیا سڑک پر گر گئی تھیں جبکہ ان کی موٹر سائیکل بھی کافی دور تک سڑک پر پھسلتی چلی گئی تھی۔
واقعے سے متعلق ویڈیو بھی سامنے آئی تھی، جس کے بعد معاملہ توجہ کا مرکز بنا۔ سیا نے الزام لگایا تھا کہ کار میں سوار افراد پہلے سے ان کا پیچھا کر رہے تھے اور انہیں رکنے کا اشارہ بھی کیا گیا تھا۔
سیا کے مطابق انہوں نے رکنے کے بجائے آگے بڑھنا جاری رکھا۔ اس کے بعد ان کا الزام تھا کہ کار ان کی موٹر سائیکل کی طرف مڑی اور اسے ٹکر مار دی۔
حادثے کے بعد کار ڈرائیور موقع سے چلا گیا تھا۔ گروگرام پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کیں، ڈرائیور کی شناخت کی گئی اور بعد میں اسے گرفتار کیا گیا۔
ملزم کے وکیل کا موقف
اب کلیان بینسلا کے وکیل نوین بینسلا نے اپنے موکل کی جانب سے مختلف موقف پیش کیا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ کلیان کو موقع پر موجود لوگوں سے اپنی جان و سلامتی کے حوالے سے خوف محسوس ہوا تھا۔
وکیل کے مطابق کلیان کو خدشہ تھا کہ اگر وہ موقع پر موجود رہا تو ہجوم اسے مار سکتا ہے۔ اسی مبینہ خوف کی وجہ سے وہ وہاں سے چلا گیا۔
دفاع کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعے کو صرف ایک فریق کے بیان کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ حادثے سے پہلے بائیک سواروں کی رفتار اور رویے کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
بائیک سواروں کی رفتار پر سوال
ملزم کے وکیل نے بائیک سواروں کی رفتار کے حوالے سے بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بائیک سوار تیز رفتاری سے چل رہے تھے اور کلیان کو مبینہ طور پر اکسایا گیا۔
تاہم ان دعوؤں کی حقیقت کا تعین تفتیش کے بعد ہی ہو سکے گا۔ پولیس کو حادثے سے پہلے اور بعد کے حالات، گاڑیوں کی رفتار اور دونوں فریقوں کے درمیان کسی ممکنہ گفتگو یا تنازعے کی بھی جانچ کرنا ہوگی۔
ویڈیو شواہد اہم ہو سکتے ہیں
واقعے کی ویڈیو اس معاملے میں اہم ثبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ تفتیش کے دوران کار اور موٹر سائیکلوں کی نقل و حرکت، ان کے درمیان فاصلہ، رفتار اور ٹکر سے پہلے کے حالات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
موقع پر موجود عینی شاہدین کے بیانات بھی اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ حادثے سے پہلے کیا ہوا اور ٹکر کے فوراً بعد صورتحال کیا تھی۔
پولیس کے سامنے اہم سوال
اس معاملے میں پولیس کے سامنے کئی اہم سوالات ہیں۔ ٹکر کن حالات میں ہوئی، گاڑی اور موٹر سائیکل کی رفتار کتنی تھی، کیا گاڑی جان بوجھ کر موٹر سائیکل کی طرف موڑی گئی اور حادثے کے بعد ڈرائیور نے موقع پر رکنے کے بجائے وہاں سے جانے کا فیصلہ کیوں کیا، یہ سب تفتیش کا حصہ ہو سکتا ہے۔
پولیس سیا کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے ساتھ ساتھ ملزم کے دفاع میں وکیل کی جانب سے پیش کیے گئے دعوؤں کی بھی جانچ کرے گی۔
فی الحال وکیل کا بیان ملزم کے دفاعی موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔ معاملے کی حتمی حقیقت تفتیش سے سامنے آنے والے شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگی۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
