مشہور نٹھاری معاملے سے وابستہ رہے سریندر کولی کی ہریدوار میں موت ہوگئی۔ پولیس کے مطابق اس کی لاش شمالی ہریدوار کے بھوپت والا علاقے میں سپت سروور روڈ پر واقع ایک چائے کی دکان کے اندر پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو قبضے میں لے کر ضروری قانونی کارروائی شروع کردی۔ پولیس نے الموڑہ میں مقیم اس کے اہل خانہ کو بھی واقعے کی اطلاع دی ہے۔ فی الحال پولیس موت کے حالات کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کررہی ہے۔
چائے کی دکان سے لاش برآمد
پولیس کے مطابق شہر کوتوالی کی سپت رشی پولیس چوکی کو اطلاع ملی تھی کہ سپت سروور روڈ پر لال ماتا مندر کے سامنے واقع چائے کی دکان میں ایک شخص نے مبینہ طور پر پھندا لگا لیا ہے۔
اطلاع ملنے کے بعد پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور متوفی کی شناخت سریندر کولی کے طور پر کی گئی۔ پولیس کے مطابق وہ اصل میں الموڑہ ضلع کے بھکیاسین علاقے کا رہنے والا تھا۔
پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم سمیت دیگر قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔ موت کے حالات جاننے کے لیے جائے وقوعہ کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔
کچھ عرصے سے ہریدوار میں مقیم تھا
پولیس کی ابتدائی معلومات کے مطابق سریندر کولی گزشتہ کچھ ماہ سے ہریدوار میں رہ رہا تھا۔ اس نے کرائے پر ایک چھوٹی چائے کی دکان لے رکھی تھی اور اسی کاروبار کے ذریعے روزگار حاصل کررہا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کے لوگوں سے بھی معلومات حاصل کیں۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ واقعے سے پہلے اس کی سرگرمیاں کیا تھیں اور کن حالات میں یہ واقعہ پیش آیا۔
پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے فی الحال کوئی خودکشی کا نوٹ بھی برآمد نہیں ہوا ہے۔ اس لیے تفتیشی ٹیم دستیاب شواہد اور دیگر معلومات کی بنیاد پر واقعے کی کڑیاں جوڑنے کی کوشش کررہی ہے۔
پولیس نے تفتیش شروع کردی
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور ضروری شواہد جمع کیے۔ آس پاس کے علاقے کا بھی جائزہ لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ موت کے تمام ممکنہ پہلوؤں کی جانچ کی جارہی ہے۔ اہل خانہ اور آس پاس کے لوگوں سے حاصل ہونے والی معلومات کے ساتھ ساتھ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مزید تفتیش کے بعد موت کے حالات کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔
نٹھاری معاملے سے جڑا رہا نام
سریندر کولی کا نام 2006 میں سامنے آنے والے مشہور نٹھاری معاملے سے جڑا رہا تھا۔ نوئیڈا کے نٹھاری علاقے میں بچوں سمیت کئی افراد کے لاپتہ ہونے اور قتل کے واقعات کے بعد یہ معاملہ ملک بھر میں زیر بحث آیا تھا۔
ان واقعات کی تفتیش کے بعد سریندر کولی کے خلاف کئی معاملات میں مقدمات اور عدالتی کارروائیاں ہوئیں۔ مختلف مقدمات میں اس کے خلاف سزائیں بھی سنائی گئیں اور کئی برس تک قانونی کارروائی جاری رہی۔
نٹھاری معاملے نے جرائم کی تفتیش، متاثرین کے تحفظ اور عدالتی نظام سے متعلق ملک میں بڑے پیمانے پر بحث کو جنم دیا تھا۔
سزائے موت سے عمر قید تک پہنچی کارروائی
نٹھاری سے متعلق مقدمات میں سریندر کولی کو طویل قانونی عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ دستیاب معلومات کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک معاملے میں اسے سزائے موت سنائی تھی۔
بعد میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا۔ نٹھاری سے وابستہ مختلف مقدمات میں اس کے بعد بھی قانونی کارروائیاں جاری رہیں اور مختلف عدالتوں کی جانب سے مختلف مراحل پر احکامات جاری کیے گئے۔
یہ بات اہم ہے کہ نٹھاری سے متعلق تمام مقدمات کی قانونی صورتحال ایک جیسی نہیں رہی۔ مختلف مقدمات میں عدالتوں کے الگ الگ فیصلے اور احکامات سامنے آئے۔
سپریم کورٹ کی کارروائی بھی اہم رہی
سریندر کولی سے متعلق نٹھاری کے مقدمات کی بعد کی قانونی کارروائی سپریم کورٹ تک بھی پہنچی۔ دستیاب معلومات کے مطابق 2025 میں سپریم کورٹ نے نٹھاری سے متعلق ایک مقدمے میں سریندر کولی کو بری کردیا تھا۔
اس سے قبل نچلی عدالت اور ہائی کورٹ کی سطح پر اس کے خلاف الزامات، سزا اور قانونی کارروائی ہوئی تھی۔ بعد میں سپریم کورٹ میں مقدمے کے شواہد اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
اس لیے ہریدوار میں سریندر کولی کی موت کے واقعے کو نٹھاری سے متعلق پرانے مقدمات کے مختلف عدالتی نتائج سے الگ طور پر بھی دیکھا جانا ضروری ہے۔
ریدوار میں چائے کی دکان چلا رہا تھا
پولیس کے مطابق سریندر کولی کچھ عرصے سے ہریدوار میں مقیم تھا اور چائے کی دکان چلا رہا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نٹھاری مقدمات سے متعلق طویل قانونی کارروائی کے بعد وہ ہریدوار میں رہ رہا تھا۔
تاہم پولیس نے اس کی موت کے پیچھے کسی خاص وجہ کے بارے میں ابھی کوئی حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا ہے۔ تفتیش کار اس کی حالیہ سرگرمیوں اور واقعے سے پہلے کے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اہل خانہ کو اطلاع
پولیس نے سریندر کولی کے الموڑہ میں مقیم اہل خانہ کو اس کی موت کی اطلاع دے دی ہے۔ لاش سے متعلق پوسٹ مارٹم اور دیگر ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جارہی ہے۔
تفتیشی ٹیم جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد اور علاقے کے لوگوں سے ملنے والی معلومات کو یکجا کرکے واقعے کی مکمل صورتحال سمجھنے کی کوشش کررہی ہے۔
موت کے حالات کی تفتیش جاری
فی الحال پولیس کی تفتیش جاری ہے۔ چونکہ جائے وقوعہ سے خودکشی کا نوٹ ملنے کی اطلاع نہیں ہے، اس لیے پولیس واقعے سے قبل کے حالات اور سریندر کولی کی سرگرمیوں کی بھی جانچ کررہی ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ، جائے وقوعہ کی جانچ اور دیگر شواہد موت کے حالات واضح کرنے میں اہم ثابت ہوں گے۔
سریندر کولی کی موت کے ساتھ ایک ایسا نام بھی ختم ہوگیا جو ملک کے ایک انتہائی معروف فوجداری معاملے سے طویل عرصے تک وابستہ رہا۔ تاہم نٹھاری سے متعلق قانونی تاریخ کئی مقدمات اور مختلف عدالتی فیصلوں پر مشتمل رہی ہے۔ ہریدوار میں ہوئی موت کے حالات کی تفتیش اب مقامی پولیس الگ سے کررہی ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
