موہن بھاگوت نے کہا کہ بھارت میں اقتدار کی تبدیلی کو بیرونی طاقتوں کے ذریعے حکومت بدلنے اور اپنی پسند کے لوگوں کو اقتدار میں بٹھانے کی کوششوں سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، ملک میں جمہوری نظام اور عوامی فیصلے کی اپنی اہمیت ہے۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں اور عدم استحکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی ترقی یافتہ ممالک بھی ان حالات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے خطاب میں فرانس، البانیہ، بنگلہ دیش اور نیپال کے حالات کا ذکر بھی شامل تھا۔
سنگھ سربراہ نے قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں باہمی احترام، اور ذمہ داری کا جذبہ برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے وندے ماترم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی یکجہتی اور حب الوطنی کی علامت ہے، اس لیے اسے احترام اور فخر کے ساتھ گانے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، قومی علامتوں کے احترام سے معاشرے میں اتحاد اور مشترکہ قومی شناخت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
موہن بھاگوت نے ہندو سماج کی تنظیم اور اس کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سماج کو منظم اور مضبوط بنانے کی کوشش کسی دوسرے مذہب یا فرقے کے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی احترام، اور اچھے اخلاق معاشرے کی جذباتی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کیپٹن سمت مچھّر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دوسروں کی حفاظت کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کا جذبہ خدمت، ہمدردی اور ذمہ داری جیسے اقدار سے پیدا ہوتا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے جمہوریت میں احتجاج کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔ موہن بھاگوت کے مطابق، بھارت ترقی کی راہ پر گامزن ہے، لیکن ترقی کے باوجود مختلف مسائل کا موجود رہنا فطری ہے۔ ایسے حالات میں احتجاج اور تحریکیں جمہوری نظام کا حصہ ہیں، تاہم ان کا مقصد مسائل کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج یا کسی بھی سرگرمی کے ذریعے معاشرے میں نفرت، اختلاف یا تقسیم کو بڑھاوا نہیں ملنا چاہیے، بلکہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ بات چیت اور باہمی تعاون کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔
موہن بھاگوت نے آزادی کی جدوجہد اور مجاہدین آزادی کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے لیے ان کی خدمات کسی ذاتی فائدے یا معاہدے پر مبنی نہیں تھیں۔ ان کے مطابق، مادرِ وطن سے محبت اور اس کے لیے قربانی دینے کا جذبہ بے لوث وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ویر ساورکر سمیت آزادی کی جدوجہد سے وابستہ شخصیات کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو ان کی زندگیوں اور خدمات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
تقریب کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی بات کی گئی۔ موہن بھاگوت نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکنالوجی کو اخلاقی اصولوں اور ذمہ داری کے بغیر استعمال کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور علم بذاتِ خود صرف ذرائع ہیں؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان انہیں کس مقصد کے لیے اور کتنی سمجھ داری کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ ان کے مطابق، ترقی کے ساتھ اخلاقی نظم و ضبط اور انسانی اقدار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
سنگھ سربراہ نے بھارت کے عالمی کردار اور مستقبل کی نسلوں کی ذمہ داریوں پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرنے کے لیے نوجوان نسل کو تیار کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے تعلیم، اخلاقی تربیت، سماجی ذمہ داری اور ٹیکنالوجی کے متوازن استعمال پر توجہ دینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، بھارت کی قدیم تہذیبی سوچ پوری دنیا کو ایک خاندان کے طور پر دیکھنے، باہمی تعاون اور متوازن ترقی کا پیغام دیتی ہے۔
ناگپور میں منعقدہ اس تقریب میں موہن بھاگوت کے خطاب کا مرکزی پیغام قومی اتحاد، سماجی ہم آہنگی، ذمہ دارانہ احتجاج، اخلاقی اقدار اور ٹیکنالوجی کے محتاط استعمال کے گرد رہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی ترقی کے لیے معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اعتماد اور تعاون ضروری ہے، جبکہ نئی نسل کو مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
