تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
یوپی ایم ایل سی الیکشن 2026: 11 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی جاری، میرٹھ میں آزاد امیدوار کی پولیس سے تلخ کلامی

اتر پردیش کی 11 ایم ایل سی نشستوں پر ووٹوں کی گنتی شروع

اتر پردیش قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی 11 نشستوں کے لیے منگل کی صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی۔ ان نشستوں میں پانچ گریجویٹ حلقے اور چھ اساتذہ کے حلقے شامل ہیں۔ ان انتخابات میں مجموعی طور پر 152 امیدوار میدان میں ہیں، جن کی سیاسی قسمت کا فیصلہ ووٹوں کی گنتی کے بعد ہوگا۔

گنتی کے لیے لکھنؤ، وارانسی، آگرہ، میرٹھ، جھانسی، بریلی اور گورکھپور میں سات مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے گنتی کے عمل کو شفاف، منصفانہ اور پُرامن بنانے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ مراکز پر پولیس اہلکار تعینات ہیں، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں اور ویڈیوگرافی کے ذریعے پورے عمل کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

ان 11 نشستوں کے لیے 23 اکتوبر کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ دستیاب معلومات کے مطابق، انتخابات میں تقریباً 55 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ اب تمام امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی نظریں نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔

میرٹھ میں موبائل فون کو لے کر آزاد امیدوار اور پولیس کے درمیان تنازع

میرٹھ میں ووٹوں کی گنتی کے دوران اس وقت صورتحال گرم ہوگئی، جب آزاد امیدوار وکرانت وششٹھ اور پولیس کے درمیان موبائل فون لے جانے کو لے کر تلخ کلامی ہوگئی۔

اطلاعات کے مطابق، وکرانت وششٹھ گنتی مرکز کے اندر موبائل فون لے جانا چاہتے تھے، لیکن پولیس نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ اس کے بعد امیدوار اور پولیس اہلکاروں کے درمیان بحث شروع ہوگئی۔ اس دوران امیدوار کی ایک سب انسپکٹر سے بھی تلخ کلامی ہوئی۔

گنتی مراکز پر موبائل فون اور دیگر ممنوعہ اشیا کے حوالے سے مقررہ ضابطوں پر عمل کرایا جاتا ہے۔ امیدواروں، ان کے نمائندوں اور گنتی کے ایجنٹوں کو انتظامیہ کی جانب سے طے کردہ قواعد کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔

 وارانسی میں پُرامن طریقے سے ووٹوں کی گنتی جاری

وارانسی میں اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں کے لیے ووٹوں کی گنتی پُرامن طریقے سے جاری ہے۔ ضلع مجسٹریٹ ستیندر کمار نے بتایا کہ گنتی کا عمل مقررہ ضابطوں کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق، انتظامیہ کی گنتی ٹیم کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزد گنتی کے ایجنٹ بھی موجود ہیں۔ ان کی موجودگی کا مقصد گنتی کے عمل میں شفافیت برقرار رکھنا اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو ووٹوں کی گنتی کا مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی اور نظم و ضبط برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ گنتی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہوسکے۔

 آگرہ میں بی جے پی امیدوار ہری کشور تیواری کو اچھے نتائج کی امید

آگرہ میں ایم ایل سی انتخابات کی گنتی جاری ہے۔ یہاں آگرہ ڈویژن کے اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں کی گنتی نوین گلہ منڈی میں کی جا رہی ہے۔ گنتی کے مقام کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

بی جے پی امیدوار ہری کشور تیواری نے انتخابی نتائج کے حوالے سے امید ظاہر کی کہ انہیں اچھے نتائج ملیں گے۔ گنتی کے دوران امیدواروں اور ان کے حامیوں کی نظریں نتائج پر مرکوز ہیں۔

تاہم، انتخابی مقابلے کی حتمی تصویر گنتی مکمل ہونے اور سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد ہی واضح ہوگی۔

 بریلی میں آٹھ میزوں پر گنتی جاری

بریلی میں بھی ایم ایل سی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ یہاں آٹھ میزوں پر گنتی کی جا رہی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں بیلٹ بکس کی سیل دکھانے کے بعد ان سے بیلٹ پیپر نکالے گئے اور گنتی کا عمل آگے بڑھایا گیا۔

انتظامیہ نے گنتی مرکز پر سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ حکام کی کوشش ہے کہ تمام مقررہ ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے ووٹوں کی گنتی شفاف طریقے سے مکمل کی جائے۔

ابتدائی مرحلے میں گنتی جاری ہونے کے باعث امیدواروں کی پوزیشن کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ نتائج کے لیے مزید گنتی اور سرکاری اعلان کا انتظار ہے۔

 لکھنؤ میں بی جے پی امیدوار اویناش کمار سنگھ نے جیت کا اعتماد ظاہر کیا

لکھنؤ گریجویٹ حلقے سے بی جے پی امیدوار اویناش کمار سنگھ نے انتخابی نتائج کے حوالے سے جیت کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے ووٹنگ کے دوران پارٹی کارکنوں کے تعاون اور ووٹنگ میں عوام کی شرکت کا ذکر کیا۔

اویناش کمار سنگھ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے ووٹنگ کے عمل میں تعاون کیا اور ووٹنگ کا اچھا تناسب دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بڑی تعداد میں بیلٹ پیپر بی جے پی کے حق میں پڑے ہوں گے۔

انہوں نے اپنی جیت کی امید ظاہر کرتے ہوئے بھگوان رام کی کرپا اور ہنومان جی کے آشیرواد کا بھی ذکر کیا۔ تاہم، امیدواروں کے دعوؤں کے باوجود اصل صورتحال گنتی مکمل ہونے اور سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد ہی واضح ہوگی۔

 11 نشستوں کے نتائج پر سیاسی جماعتوں کی نظریں

اتر پردیش قانون ساز کونسل کی ان 11 نشستوں کے انتخابات کے نتائج کو لے کر سیاسی جماعتوں اور امیدواروں میں خاصی دلچسپی ہے۔ پانچ گریجویٹ اور چھ اساتذہ کے حلقوں میں 152 امیدواروں کے میدان میں ہونے کی وجہ سے مقابلہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔

لکھنؤ، وارانسی، آگرہ، میرٹھ، جھانسی، بریلی اور گورکھپور میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ وارانسی میں پُرامن گنتی کی اطلاعات ہیں، جبکہ میرٹھ میں موبائل فون کو لے کر آزاد امیدوار اور پولیس کے درمیان تنازع سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب آگرہ اور لکھنؤ میں بی جے پی امیدواروں نے اچھے نتائج اور جیت کی امید ظاہر کی ہے۔

اب سب کی نظریں گنتی مکمل ہونے اور سرکاری نتائج کے اعلان پر ہیں۔ نتائج سامنے آنے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کی ان 11 نشستوں پر کن امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·