وارانسی میں ایئر شو کے دوسرے دن بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے گنگا کے اوپر اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ رافیل، سخوئی اور تیجس جیسے لڑاکا طیاروں کی گرج سے آسمان گونج اٹھا، جبکہ چنوک اور دیگر ہیلی کاپٹروں کی پروازوں نے بھی تماشائیوں کی توجہ حاصل کی۔
پروگرام دیکھنے کے لیے صبح سے ہی نمو گھاٹ اور گنگا کے دوسرے اہم گھاٹوں پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہونے لگی تھی۔ مقامی شہریوں کے علاوہ آس پاس کے اضلاع سے بھی لوگ وارانسی پہنچے۔ کئی افراد گھاٹوں کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر طیاروں کی پروازیں دیکھتے رہے، جبکہ کچھ لوگوں نے قریبی عمارتوں اور کشتیوں سے فضائی مظاہرے کا نظارہ کیا۔
جہاں ایک طرف طیاروں کی کلابازیوں نے لوگوں کو محظوظ کیا، وہیں دوسری طرف شہر کے کئی علاقوں میں ٹریفک جام اور آمدورفت کی مشکلات بھی سامنے آئیں۔ دفاتر جانے والے ملازمین، تعلیمی اداروں میں پہنچنے والے طلبہ اور اسپتال جانے والے بعض افراد کو راستوں پر تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
رافیل کی گرج سے گونجا کاشی کا آسمان
ایئر شو کے دوران رافیل لڑاکا طیارہ تماشائیوں کی توجہ کا اہم مرکز رہا۔ طیارے نے تیز رفتار پرواز اور فضائی کرتب دکھائے، جس کے دوران گنگا کے کنارے موجود لوگوں کی نظریں آسمان پر مرکوز رہیں۔ طیارے کی گرج سن کر لوگوں نے تالیاں بجائیں اور اپنے موبائل فون سے ویڈیوز بنائیں۔
رافیل فرانس میں تیار کیا گیا 4.5 نسل کا کثیرالمقاصد لڑاکا طیارہ ہے اور بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں کا اہم حصہ ہے۔ اس کے مظاہرے سے لوگوں کو جدید لڑاکا طیاروں کی رفتار، سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت اور پرواز کے دوران کنٹرول کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
مختلف گھاٹوں پر موجود تماشائی طیاروں کی شناخت کرنے اور ان کی پروازوں کو اپنے کیمروں میں محفوظ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ رافیل کی پرواز نے ایئر شو کے ماحول کو مزید دلچسپ بنا دیا۔
سخوئی کی طاقت اور فضائی کرتب
سخوئی لڑاکا طیارے نے بھی پروگرام کے دوران اپنی پرواز اور فضائی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ طیارے کے انجن کی گرج سے گھاٹوں پر موجود لوگوں کی توجہ آسمان کی جانب مبذول ہو گئی۔ تماشائیوں نے طیارے کی حرکت کو اپنے موبائل فون میں ریکارڈ کیا اور اس کے کرتب پر تالیاں بجائیں۔
سخوئی-30 ایم کے آئی بھارتی فضائیہ کے اہم کثیرالمقاصد لڑاکا طیاروں میں شامل ہے۔ یہ مختلف نوعیت کے فضائی مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی پھرتی اور آپریشنل صلاحیتوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
ایئر شو دیکھنے کے لیے خاندانوں، نوجوانوں اور فضائی شعبے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد پہنچی۔ نیشنل کیڈٹ کور (NCC) کے کیڈٹس بھی اس مظاہرے کو دیکھنے کے لیے پرجوش نظر آئے۔
تیجس نے ایروبیٹکس کی صلاحیت دکھائی
بھارت میں تیار کیا گیا تیجس ہلکا لڑاکا طیارہ بھی ایئر شو کی اہم کشش رہا۔ پروگرام کے دوران اس نے مختلف فضائی کرتب دکھائے، جن میں رول اور الٹی پرواز جیسے مظاہرے شامل تھے۔
دستیاب پروگرام کی تفصیلات کے مطابق، تیجس نے تقریباً 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی بتائی گئی رفتار پر سست پرواز کا مظاہرہ بھی کیا۔ تاہم، اس رفتار اور پرواز کی مخصوص تکنیکی تفصیلات کی تصدیق کے لیے سرکاری معلومات درکار ہوں گی۔
تیجس کو بھارت میں تیار کیا گیا ہے اور اسے ہندوستان ایئروناٹکس لمیٹڈ تیار کرتی ہے۔ یہ بھارتی فضائیہ کی ضروریات کے لیے تیار کیے گئے مقامی ہلکے لڑاکا طیاروں میں شامل ہے۔
وارانسی میں اس طیارے کی پرواز دیکھنے کے لیے لوگ خاص طور پر پرجوش تھے۔ تماشائیوں نے طیارے کی ساخت، سمت میں تبدیلی اور فضائی کرتب کو اپنے موبائل فون میں محفوظ کیا۔ اس مظاہرے نے مقامی فضائی ٹیکنالوجی اور بھارت کی طیارہ سازی کی صلاحیتوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی۔
ہوا میں ایندھن بھرنے کی مشق نے توجہ حاصل کی
ایئر شو کے دوران بھارتی فضائیہ نے ہوا میں ایندھن بھرنے یعنی مڈ ایئر ری فیولنگ کا مظاہرہ بھی کیا۔ اس مشق میں ایک ٹینکر طیارے کے پیچھے رافیل طیارہ پرواز کرتا نظر آیا۔ دونوں طیاروں نے مخصوص فاصلے اور رفتار کے ساتھ پرواز جاری رکھی۔
مڈ ایئر ری فیولنگ فوجی ہوا بازی کی اہم صلاحیت ہے۔ اس کے ذریعے طیارے بعض مشنز کے دوران زمین پر اترے بغیر فضا میں ہی ایندھن حاصل کر سکتے ہیں، جس سے ان کی پرواز کا دورانیہ اور آپریشنل رسائی بڑھ سکتی ہے۔
اس عمل کے لیے طیاروں کے درمیان درست تال میل، رفتار پر قابو اور مقررہ فارمیشن برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ گنگا کے کنارے موجود تماشائیوں کے لیے یہ مظاہرہ ایک خاص تجربہ تھا، کیونکہ اس میں جدید فضائی تکنیک اور پائلٹوں کی مہارت کا مشاہدہ کیا جا سکتا تھا۔
چنوک ہیلی کاپٹر کی پرواز بھی توجہ کا مرکز
ایئر شو میں چنوک ہیوی لفٹ ہیلی کاپٹر نے بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ دو روٹرز والے ڈیزائن کی وجہ سے اس کی شناخت آسان ہے۔ چنوک کو بھاری سامان اور اہلکاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں زمینی رسائی مشکل ہو۔
پروگرام کے دوران ہیلی کاپٹر نے گنگا کے قریب پرواز کی، جبکہ دوسرے ہیلی کاپٹروں نے بھی فضائی مظاہرے میں حصہ لیا۔ مختلف ہیلی کاپٹروں کی منظم پروازوں نے تماشائیوں کی دلچسپی میں اضافہ کیا۔
نمو گھاٹ پر موجود لوگوں نے فضائیہ کے اہلکاروں کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ نوجوانوں اور این سی سی کیڈٹس میں فوجی طیاروں اور اہلکاروں کو قریب سے دیکھنے کے حوالے سے خاص جوش دیکھا گیا۔
نمو گھاٹ سے اسی گھاٹ تک تماشائیوں کا ہجوم
ایئر شو کا مرکزی مظاہرہ نمو گھاٹ کے سامنے ہو رہا تھا، لیکن گنگا کے دوسرے اہم گھاٹوں سے بھی طیاروں کی پروازیں دیکھی جا سکتی تھیں۔ اسی گھاٹ، دشاشوامیدھ گھاٹ اور آس پاس کے علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔
کچھ تماشائی گھاٹوں کی سیڑھیوں پر بیٹھے رہے، جبکہ بعض لوگوں نے کشتیوں اور قریبی عمارتوں سے مظاہرہ دیکھا۔ طیاروں کے گزرتے ہی لوگ اپنے موبائل فون سے ویڈیوز بنانے لگتے تھے۔
پروگرام میں پھولوں کی بارش اور دھوئیں کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد کے باعث پولیس اور سکیورٹی اہلکار مختلف مقامات پر تعینات رہے تاکہ بھیڑ کو منظم رکھا جا سکے اور پروگرام کے اطراف انتظامات برقرار رہیں۔
تاہم، نمو گھاٹ کے قریب کشتیوں کی آمدورفت پر پابندیوں کے باعث بعض کشتی بانوں کے کام پر اثر پڑنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اس طرح کے بڑے پروگراموں میں سکیورٹی کے تقاضوں کے ساتھ مقامی کاروبار اور عام شہریوں کی سرگرمیوں کو برقرار رکھنا بھی اہم ہوتا ہے۔
ایئر شو کے دوران شہر میں ٹریفک جام
طیاروں کے شاندار مظاہرے کے باوجود وارانسی کے کئی علاقوں میں ٹریفک جام کی شکایات سامنے آئیں۔ پروگرام کے اطراف بیریکیڈنگ، راستوں میں تبدیلی اور گاڑیوں کی بڑی تعداد کے باعث بعض سڑکوں پر آمدورفت سست ہو گئی۔
دفاتر جانے والے ملازمین کو وقت پر پہنچنے میں دشواری ہوئی، جبکہ یونیورسٹیوں اور کوچنگ اداروں میں جانے والے طلبہ بھی متاثر ہوئے۔ نجی گاڑیوں میں مریضوں کو اسپتال لے جانے والے کچھ لوگوں کو بھی راستوں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
باہر سے آنے والے تماشائیوں کے لیے پارکنگ کے انتظامات پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ لوگوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ بعض مقامات پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، جس سے مقامی رہائشیوں اور شہر آنے والے افراد کو پریشانی ہوئی۔
پولیس کے رویے کے حوالے سے بھی بعض شکایات سامنے آئیں۔ کچھ افراد نے الزام لگایا کہ راستوں پر روک ٹوک اور پابندیوں کے باعث آمدورفت مزید مشکل ہو گئی۔ تاہم، ان شکایات کی مکمل نوعیت اور مختلف مقامات پر اصل صورت حال کا جائزہ مصدقہ معلومات کی بنیاد پر ہی لیا جا سکتا ہے۔
آخری دن کے لیے سکیورٹی انتظامات
ایئر شو کے دوسرے دن سکیورٹی انتظامات پر بھی توجہ دی گئی۔ دستیاب معلومات کے مطابق، آخری دن وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی متوقع موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی تھی۔
نمو گھاٹ اور آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، بھیڑ کو منظم کرنا اور ٹریفک کنٹرول اہم معاملات رہے۔ بڑے عوامی پروگراموں میں تماشائیوں کی حفاظت کے ساتھ مقامی رہائشیوں، مریضوں اور ضروری خدمات کی آمدورفت برقرار رکھنا بھی انتظامیہ کے لیے اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق، دوسرے دن کا پروگرام صبح تقریباً 11 بجے شروع ہوا اور دوپہر قریب 2 بجے اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور دیگر فضائی مظاہروں نے لوگوں کی توجہ حاصل کی۔
فضائی مظاہرے کے ساتھ ٹریفک انتظامات بھی اہم
وارانسی ایئر شو نے لوگوں کو بھارتی فضائیہ کے رافیل، سخوئی، تیجس اور چنوک جیسے طیاروں کی صلاحیتیں دیکھنے کا موقع دیا۔ گنگا کے کنارے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور فضائی مظاہروں سے لطف اندوز ہوئے۔
دوسری جانب، ٹریفک جام، پارکنگ کی مشکلات اور راستوں پر پابندیوں نے بڑے عوامی پروگراموں کے انتظامات سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔ ایسے مواقع پر تماشائیوں کی محفوظ آمدورفت کے ساتھ مریضوں کے لیے اسپتال تک رسائی اور طلبہ و ملازمین کی روزمرہ نقل و حرکت کو برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
ایئر شو کا دوسرا دن فضائی کرتب، بڑی تعداد میں تماشائیوں اور شہر میں ٹریفک کی مشکلات کے حوالے سے نمایاں رہا۔ پروگرام کی کامیابی کے ساتھ ساتھ آمدورفت کے انتظامات بھی اس تقریب کے اہم پہلوؤں میں شامل رہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
