تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
ایل پی یو کے یونی مال میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ


پنجاب کے پھگواڑہ میں واقع لولی پروفیشنل یونیورسٹی یعنی ایل پی یو میں ایک طالبہ سے متعلق مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے پر احتجاج کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے۔ اسی دوران یونیورسٹی کے کیمپس میں موجود یونی مال میں توڑ پھوڑ اور مبینہ لوٹ مار کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کئی ویڈیوز میں کچھ لوگوں کو مال کی دکانوں میں داخل ہوتے اور وہاں موجود مختلف سامان لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران بعض دکانوں سے لیپ ٹاپ، موبائل فون، دیگر الیکٹرانک سامان، کھانے پینے کی اشیا اور دوسری چیزیں لے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کچھ ویڈیوز میں لوگ دکانوں کے اندر سامان اٹھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دیگر مناظر میں مال کے اندر بدنظمی اور افراتفری کا ماحول نظر آتا ہے۔

تاہم ویڈیوز میں نظر آنے والے تمام افراد کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ویڈیوز میں نظر آنے والے تمام افراد ایل پی یو کے طلبہ ہی تھے یا احتجاج کے دوران دیگر لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ اس لیے کسی فرد کی ذمہ داری طے کرنے سے پہلے ویڈیوز کے ساتھ دیگر شواہد کی جانچ ضروری ہے۔

یونی مال میں کاروبار کرنے والے دکانداروں کو اس واقعے کے بعد نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمپیوٹر اور الیکٹرانک سامان کی کچھ دکانیں متاثر ہوئیں اور وہاں سے لیپ ٹاپ اور دیگر آلات لے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ موبائل فون کی دکانوں سمیت مال میں موجود دیگر کاروباری مقامات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے کچھ مناظر میں لوگوں کو موبائل فون اور دیگر مہنگے الیکٹرانک سامان تلاش کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ احتجاج کے دوران لوگ مال کے اندر موجود دکانوں تک کیسے پہنچے اور اس وقت سیکیورٹی کی صورتحال کیا تھی۔ مال اور اس کے آس پاس موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ واقعے کی تحقیقات میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

ایل پی یو میں کشیدگی ایک طالبہ سے متعلق مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں اور دعوؤں کے بعد بڑھی۔ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ان دعوؤں کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بعض دعوؤں کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے، جبکہ پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

احتجاج کے دوران حالات مزید خراب ہوئے اور کیمپس میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان بھی کشیدگی پیدا ہوئی۔ احتجاج کے دوران قومی شاہراہ پر ٹریفک متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیے جانے کی اطلاع ہے۔

یونی مال میں مبینہ لوٹ مار نے پورے معاملے میں ایک اور اہم پہلو شامل کر دیا ہے۔ کیمپس میں دکانیں چلانے والے ایسے کاروباری افراد بھی متاثر ہوئے جو احتجاج کا حصہ نہیں تھے۔ کئی دکانوں میں نقصان اور سامان کے بکھرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دکاندار اب اپنے نقصانات اور غائب ہونے والے سامان کا اندازہ لگا رہے ہیں۔

تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور احتجاج کے دوران بنائی گئی ویڈیوز اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان شواہد کی مدد سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ واقعے کے دوران کون لوگ دکانوں کے اندر داخل ہوئے اور وہاں سے سامان لے کر باہر گئے۔ اس کے بعد ہی ذمہ داری سے متعلق مزید واضح معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔

اس پورے واقعے کا اثر یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں پر بھی پڑا ہے۔ احتجاج اور سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث کلاسز اور امتحانات متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کیمپس میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور پولیس و انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اب اس معاملے میں کئی پہلوؤں کی الگ الگ تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ایک طرف طالبہ سے متعلق مبینہ معاملے کی حقیقت جاننا ضروری ہے، جبکہ دوسری طرف احتجاج کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ، آتش زنی اور یونی مال سے مبینہ طور پر سامان لے جانے کے واقعات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی پورے واقعے کے بارے میں زیادہ واضح معلومات سامنے آ سکیں گی۔

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·