مہاراشٹر کے ضلع بلڈھانہ کی چکھلی اسمبلی نشست کی سیاست میں اس وقت اچانک تبدیلی دیکھنے کو ملی جب کانگریس کے سابق رکن اسمبلی راہل بوندرے نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کے اپنے مبینہ فیصلے پر دوبارہ غور کیا۔ راہل بوندرے گزشتہ کئی دنوں سے پارٹی تبدیل کرنے کی خبروں کے درمیان تھے اور انہوں نے خود بھی ایک ویڈیو کے ذریعے کانگریس چھوڑنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق راہل بوندرے نے فیس بک لائیو کے ذریعے بی جے پی میں شامل ہونے کا اپنا فیصلہ عوام کے سامنے رکھا تھا۔ ان کی بی جے پی میں شمولیت 22 ستمبر کو وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی موجودگی میں ہونے کی بات کہی جا رہی تھی۔ تاہم اس سیاسی معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے راہل بوندرے سے فون پر رابطہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق راہل گاندھی نے فون پر راہل بوندرے سے کانگریس میں رہنے اور اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی۔ بات چیت کے دوران راہل گاندھی نے مبینہ طور پر بوندرے کی پارٹی کے لیے خدمات کا ذکر کیا اور کہا کہ کانگریس کو ان کی ضرورت ہے۔
اس گفتگو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں راہل بوندرے کو راہل گاندھی سے بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق گفتگو کے بعد بوندرے نے کانگریس کے ساتھ کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس ویڈیو اور گفتگو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے، اس لیے اس سے متعلق تفصیلات کو رپورٹ کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
راہل بوندرے نے کانگریس چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال اور دیگر رہنماؤں کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ لیکن راہل گاندھی سے گفتگو کے بعد ان کے فیصلے میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے کانگریس میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب راہل بوندرے کے بی جے پی میں شامل ہونے کی تیاری کی خبریں بھی سامنے آ چکی تھیں۔ چکھلی سے بی جے پی کی رکن اسمبلی شویتا مہالے نے بھی ان کے ممکنہ پارٹی میں شامل ہونے کی تصدیق کی تھی اور کہا گیا تھا کہ 22 ستمبر کو وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی موجودگی میں ان کی شمولیت ہوسکتی ہے۔
راہل بوندرے کا سیاسی تعلق چکھلی اور بلڈھانہ سے طویل عرصے سے رہا ہے۔ وہ چکھلی اسمبلی حلقے کی نمائندگی کر چکے ہیں اور ضلع میں کانگریس کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ 2024 کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں انہوں نے بی جے پی کی شویتا مہالے کے خلاف انتخاب لڑا تھا اور اطلاعات کے مطابق انہیں تقریباً 3,702 ووٹوں کے فرق سے شکست ہوئی تھی۔
راہل بوندرے کے بی جے پی میں شامل ہونے کی خبر ایسے وقت سامنے آئی تھی جب مہاراشٹر میں مختلف سیاسی جماعتوں اور دھڑوں کے درمیان رہنماؤں کی آمد و رفت کی خبریں مسلسل سیاسی بحث کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔ اسی پس منظر میں بوندرے کے فیصلے کو بھی بلڈھانہ کی مقامی سیاست میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
ستمبر کے آغاز میں شیوسینا کے رکن اسمبلی مرجی پٹیل نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والے شیوسینا دھڑے کے 14 ارکان اسمبلی ایکناتھ شندے کے رابطے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں سیاسی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ مرجی پٹیل نے اس ممکنہ سیاسی سرگرمی کو "آپریشن ٹائیگر" کا نام دیا تھا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ یا سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
مرجی پٹیل نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ارکان اسمبلی کے بعد میونسپل کارپوریٹرز اور زمینی سطح کے کارکن بھی ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں شامل ہوسکتے ہیں۔ تاہم جن 14 ارکان اسمبلی کا ذکر کیا گیا تھا، ان کے نام عوامی طور پر سامنے نہیں آئے تھے اور ان کے ممکنہ پارٹی تبدیل کرنے کی سرکاری تصدیق بھی نہیں ہوئی تھی۔
ایسے سیاسی ماحول میں راہل بوندرے کا بی جے پی میں شامل ہونے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنا بلڈھانہ کی سیاست میں خاصی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ فی الحال سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق راہل گاندھی سے فون پر بات چیت کے بعد بوندرے نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور کانگریس میں رہ کر کام جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
