نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج مزید تیز ہوگیا ہے۔ ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے عمل کو لے کر اپوزیشن جماعتیں مسلسل الیکشن کمیشن کی کارروائی پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ اسی معاملے کو لے کر انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کیا۔
اپوزیشن ارکان چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ منگل کو شروع کیے گئے مارچ کو سکیورٹی اہلکاروں نے الیکشن کمیشن کے دفتر تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا۔ احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ اور الیکشن کمیشن کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی اور مختلف مقامات پر بیریکیڈ لگائے گئے تھے۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت کئی اپوزیشن ارکان احتجاج میں موجود رہے۔ جب مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکا گیا تو راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس دوران اپوزیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگائے اور ان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ میں تبدیلی اور ایس آئی آر کے عمل کو لے کر کئی سوالات موجود ہیں۔ اپوزیشن اس پورے عمل میں شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس خدشے کا اظہار کر رہی ہے کہ اس سے اہل ووٹروں کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔
اس معاملے میں فارم 6 میں کی گئی تبدیلیاں بھی بحث کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں واضح کیا کہ نئے ووٹروں کے اندراج سے متعلق ترمیم شدہ فارم 6 کو عدالت کی جانب سے منظوری نہیں دی گئی تھی۔ اس وضاحت کے بعد اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن پر اپنی تنقید مزید تیز کردی۔ راہل گاندھی نے بھی اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
اپوزیشن جماعتیں اس سے پہلے بھی گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر چکی ہیں۔ 30 ستمبر کو اپوزیشن جماعتوں کی ایک میٹنگ میں بھی الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر کے معاملے پر آئندہ کی حکمت عملی پر بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد ملک بھر میں احتجاج اور 6 اکتوبر کو دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کرنے کا منصوبہ سامنے آیا تھا۔
دہلی میں احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی۔ پارلیمنٹ سے لے کر الیکشن کمیشن کے آس پاس کے علاقوں تک پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کی گئی۔ مختلف راستوں پر بیریکیڈ لگائے گئے تاکہ مارچ کو الیکشن کمیشن کے دفتر تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
مارچ روکے جانے کے بعد اپوزیشن ارکان وہیں بیٹھ گئے اور اپنی مانگوں کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ اپوزیشن کا بنیادی مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، ووٹر لسٹ سے متعلق معاملات میں شفافیت اور ایس آئی آر کے عمل پر وضاحت سے متعلق ہے۔
اس پورے معاملے کے باعث الیکشن کمیشن اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے مزید احتجاج کا اعلان اور الیکشن کمیشن کی جانب سے اس معاملے پر جواب متوقع ہے۔
فی الحال دہلی میں ہونے والا یہ احتجاج ووٹر لسٹ، ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کی کارروائی سے متعلق جاری سیاسی بحث کا اہم حصہ بن گیا ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
