امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن اور غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی سے متعلق پالیسیوں کو سخت کرنے کے سلسلے میں ایک اہم اقدام کی خبر سامنے آئی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، امریکی محکمہ محنت نے کئی بڑی کمپنیوں کو مستقل ملازمت کے لیے لیبر سرٹیفکیشن یعنی PERM کے عمل سے روک دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس فہرست میں بھارت کی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ امریکہ اور دیگر ممالک کی معروف کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اس خبر کے بعد امریکہ میں کام کرنے والے غیر ملکی ماہرین، خاص طور پر بھارتی ملازمین، کے درمیان تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔
PERM کا پورا نام Permanent Labor Certification ہے۔ یہ امریکہ میں ملازمت کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ جب کوئی امریکی کمپنی کسی غیر ملکی ملازم کو مستقل ملازمت پر رکھنے اور اس کے لیے گرین کارڈ کی درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے تو عام طور پر اسے محکمہ محنت کے مقررہ طریقۂ کار کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کمپنی متعلقہ قوانین کی پابندی کرے اور امریکی کارکنوں کی ملازمتوں اور اجرت کے تحفظ سے متعلق شرائط پر عمل کرے۔ PERM کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد بھی گرین کارڈ ملنا یقینی نہیں ہوتا۔ اس کے بعد آجر کی جانب سے متعلقہ درخواست، ویزا کیٹیگری میں دستیابی اور امیگریشن کے دیگر تقاضے پورے کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔
دستیاب معلومات میں جن کمپنیوں کے نام سامنے آئے ہیں، ان میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز یعنی TCS، انفوسس، وِپرو، HCL، کاگنیزنٹ اور کیپ جیمینی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مائیکروسافٹ اور ایڈوب جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے نام بھی بتائے گئے ہیں۔ تاہم، خبر میں مجموعی طور پر 8 کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا ذکر ہے، لیکن تمام کمپنیوں کے نام اور پابندی کی اصل نوعیت کی سرکاری دستاویزات سے تصدیق ضروری ہے۔ اس لیے پابندی کے دائرے اور ہر کمپنی پر اس کے اثرات کے بارے میں حتمی بات متعلقہ سرکاری حکم کی بنیاد پر ہی کہی جا سکتی ہے۔
اس خبر سے ان بھارتی پیشہ ور افراد کو خاص طور پر تشویش ہو سکتی ہے جو امریکہ میں H-1B ویزا پر کام کر رہے ہیں اور اپنی کمپنی کے ذریعے مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ بہت سے ماہرین عارضی ورک ویزا پر امریکہ جاتے ہیں اور بعد میں اپنے آجر کی مدد سے گرین کارڈ کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ گرین کارڈ اہل افراد کو امریکہ میں مستقل طور پر رہنے اور کام کرنے کا حق فراہم کرتا ہے، تاہم اس کے لیے متعلقہ قانونی شرائط پوری کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کسی کمپنی کے لیے PERM کا عمل شروع کرنا یا آگے بڑھانا ممکن نہ رہے تو ایسے ملازمین کی درخواستوں میں تاخیر ہو سکتی ہے جن کے معاملات میں یہ مرحلہ ضروری ہے۔
تاہم، PERM کے عمل پر پابندی کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ کمپنیوں میں کام کرنے والے تمام بھارتی ملازمین کے H-1B ویزے منسوخ ہو گئے ہیں یا ان کی گرین کارڈ درخواستیں خود بخود ختم ہو گئی ہیں۔ H-1B ویزا اور ملازمت کی بنیاد پر گرین کارڈ دو الگ امیگریشن طریقۂ کار ہیں۔ پابندی کا اثر ہر ملازم کی صورت حال، درخواست کے مرحلے، کمپنی پر عائد شرائط اور متعلقہ سرکاری ہدایات پر منحصر ہوگا۔ جن ملازمین کا PERM عمل ابھی شروع نہیں ہوا، انہیں درخواست شروع کرنے میں مشکلات یا تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پہلے سے جمع کرائی گئی درخواستوں پر کیا اثر ہوگا، اس کا فیصلہ متعلقہ حکم اور سرکاری ہدایات کے مطابق ہوگا۔
یہ معاملہ بھارتی آئی ٹی شعبے کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں بھارتی ماہرین امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بین الاقوامی آئی ٹی اداروں میں کام کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض H-1B ویزا پر امریکہ میں مقیم ہیں اور مستقبل میں مستقل رہائش حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گرین کارڈ کے عمل میں تاخیر سے ملازمین کو اپنے مستقبل، ملازمت میں تبدیلی، ویزا کی مدت اور خاندان سے متعلق منصوبوں کے بارے میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں ملازمین کے لیے اپنی موجودہ امیگریشن حیثیت اور درخواست کے مرحلے کو سمجھنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
کمپنیوں کو بھی اس صورت حال کے باعث اپنے ملازمین کی بھرتی اور انہیں طویل مدت تک برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی شعبے میں غیر ملکی ماہرین کا اہم کردار رہا ہے۔ اگر ملازمت کی بنیاد پر مستقل رہائش کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا اثر کمپنیوں کی افرادی قوت کی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی ماہرین کی بھرتی پر بھی پڑ سکتا ہے۔ متعلقہ اداروں کو اپنے ملازمین کی درخواستوں کا جائزہ لینا اور یہ معلوم کرنا پڑ سکتا ہے کہ کن معاملات پر پابندی کا اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، ہر ملازم کے لیے دستیاب قانونی راستے اس کی انفرادی صورت حال اور متعلقہ قوانین کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
اس معاملے میں کئی اہم سوالات کے جواب سرکاری دستاویزات سے واضح ہونا باقی ہیں۔ ان میں متاثرہ کمپنیوں کی مکمل فہرست، پابندی کی مدت، اس کے دائرۂ کار اور پہلے سے جمع کرائی گئی درخواستوں پر ممکنہ اثرات شامل ہیں۔ یہ بھی واضح ہونا ضروری ہے کہ متاثرہ ملازمین کے لیے کون سے متبادل راستے دستیاب ہوں گے۔ جب تک ان تفصیلات کی سرکاری تصدیق نہیں ہوتی، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ متعلقہ کمپنیوں میں کام کرنے والے تمام بھارتی ملازمین کے لیے گرین کارڈ کا راستہ بند ہو گیا ہے۔ اگر PERM عمل پر پابندی کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے متاثرہ کمپنیوں کے ذریعے مستقل رہائش حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے بعض ملازمین کو تاخیر اور غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
