تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
ہیڈلائن:* راجناتھ سنگھ کا اپوزیشن پر حملہ، بنگلہ دیش جیسی تبدیلی کا الزام


لکھنؤ: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ملک میں سیاسی تصادم اور افراتفری پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ لکھنؤ میں اپنے تین روزہ دورے کے دوسرے دن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بنگلہ دیش کی طرز پر اقتدار کی تبدیلی کی کوشش کر رہی ہے۔ راجناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کی سیاست کا مقصد جمہوری اداروں کو کمزور کرنا اور سیاسی عدم استحکام کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا ہے۔

راجناتھ سنگھ ان دنوں لکھنؤ کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ جمعہ کو ان کے دورے کا دوسرا دن تھا، جب انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی اور کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کو کئی معاملات پر نشانہ بنایا۔ انہوں نے راہل گاندھی کی جانب سے اٹھائے گئے ووٹ چوری کے معاملے پر بھی ردعمل دیا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ کانگریس کے پاس اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ان کے مطابق ووٹ چوری کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران راجناتھ سنگھ نے دہلی میں حالیہ واقعات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات نے کئی سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔ وزیر دفاع کا الزام تھا کہ کانگریس اور اس کے سیاسی اتحادی براہ راست یا اپنے حامی تنظیموں کے ذریعے نوجوانوں کی توانائی کو تعمیری سرگرمیوں اور ملک کی تعمیر میں استعمال کرنے کے بجائے سیاسی تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

راجناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ ملک کے نوجوانوں کو افراتفری کی سیاست کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں اور توانائی کو ملک کی ترقی، مثبت سرگرمیوں اور قومی تعمیر کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات کو جمہوری طریقے سے حل کرنے کے بجائے تصادم کو بڑھانا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

وزیر دفاع نے بنگلہ دیش میں اقتدار کی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن کی سیاست پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے بعض رہنما حکومت بدلنے کی بات کر رہے ہیں اور بنگلہ دیش سے تحریک لینے جیسے بیانات بھی دے رہے ہیں۔ راجناتھ سنگھ کے مطابق ایسے بیانات اپوزیشن کی سیاسی نیت پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔ تاہم، یہ الزامات وزیر دفاع کی جانب سے لگائے گئے ہیں اور انہیں تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ حکمت عملی کا ثابت شدہ ثبوت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی سیاسی لڑائی صرف انتخابی اصلاحات، ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر یا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار جیسے معاملات تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان موضوعات کے ذریعے سیاسی تصادم کو بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر دفاع کے مطابق جمہوری نظام میں حکومت کی تبدیلی کا راستہ انتخابات اور آئینی طریقہ کار سے ہو کر گزرتا ہے، جبکہ افراتفری پیدا کرنے کی کوشش ملک کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

ووٹ چوری کے الزامات کو لے کر کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان سیاسی اختلافات برقرار ہیں۔ راجناتھ سنگھ نے راہل گاندھی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ دوسری جانب انتخابی عمل، ووٹر لسٹ اور انتخابی اصلاحات کے معاملات پر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان معاملات کا درست جائزہ لینے کے لیے تمام فریقوں کے دعوؤں اور دستیاب شواہد کا الگ الگ اور غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔

اپنے لکھنؤ دورے کے پروگرام کے بارے میں راجناتھ سنگھ نے بتایا کہ وہ کالیداس مارگ پر واقع اپنی رہائش گاہ پر مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف علاقوں میں جا کر غم زدہ خاندانوں سے ملاقات کریں گے اور انتقال کر جانے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

راجناتھ سنگھ کے اس بیان سے کانگریس اور اپوزیشن کی سیاست پر بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ ان کے الزامات میں اقتدار کی تبدیلی، نوجوانوں کا کردار، انتخابی اصلاحات اور جمہوری اداروں کی مضبوطی جیسے موضوعات شامل رہے۔ فی الحال پریس کانفرنس میں سامنے آنے والے بیانات وزیر دفاع کا موقف ہیں۔ اپوزیشن کا ردعمل اور الزامات کے حق میں پیش کیے جانے والے شواہد اس سیاسی بحث کو سمجھنے کے لیے اہم ہوں گے۔

*میٹا ہیڈلائن:* راجناتھ سنگھ کا اپوزیشن پر حملہ، بنگلہ دیش جیسی تبدیلی کا الزام

*میٹا ڈسکرپشن:* لکھنؤ میں راجناتھ سنگھ نے کانگریس اور اپوزیشن پر افراتفری پھیلانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے راہل گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔

*میٹا کی ورڈز:* راجناتھ سنگھ، لکھنؤ، کانگریس، راہل گاندھی، اپوزیشن، بنگلہ دیش، اقتدار کی تبدیلی، ووٹ چوری، انتخابی اصلاحات، ایس آئی آر، گیانیش کمار، وزیر دفاع، بھارتی سیاست

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·