جنتر منتر معاملے میں عبوری راحت
جنتر منتر پر احتجاج کے دوران مبینہ مارپیٹ کے معاملے میں گرفتار ہندوتوا انفلوئنسر سوتنتر بھاردواج کو دہلی کی عدالت سے عبوری راحت ملی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج سوربھ پرتاپ سنگھ لالر کی عدالت نے انہیں تین ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دی ہے۔
عدالت کے حکم کے بعد ضروری قانونی کارروائی مکمل کی گئی، جس کے بعد انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ جمعرات کی دیر رات تہاڑ جیل سے باہر آئے۔
50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے پر رہائی
عدالت نے سوتنتر بھاردواج کو 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے پر عبوری ضمانت دی۔ ضمانت سے متعلق تمام ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں جیل سے رہا کیا گیا۔
یہ ضمانت محدود مدت کے لیے دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالت نے معاملے میں عائد الزامات پر حتمی فیصلہ دے دیا ہے۔ اصل معاملے کی قانونی کارروائی آگے بھی جاری رہے گی۔
احتجاج کے دوران مارپیٹ کا الزام
یہ معاملہ جنتر منتر پر ہونے والے ایک احتجاج کے دوران پیش آنے والے مبینہ جھگڑے اور مارپیٹ سے متعلق ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سوتنتر بھاردواج کو گرفتار کیا تھا۔
گرفتاری کے بعد وہ عدالتی حراست میں تھے۔ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی جانچ اور قانونی کارروائی مقررہ عدالتی عمل کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
عدالت نے تین ہفتوں کی راحت دی
ایڈیشنل سیشن جج سوربھ پرتاپ سنگھ لالر نے معاملے کی سماعت کے بعد سوتنتر بھاردواج کو تین ہفتوں کی عبوری ضمانت دینے کا حکم دیا۔ عدالت کی جانب سے دی گئی یہ راحت عارضی نوعیت کی ہے اور مقررہ مدت تک ہی نافذ رہے گی۔
ضمانت کے دوران عدالت کی جانب سے مقرر کی گئی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔ تین ہفتوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد معاملے میں عدالت کے مزید احکامات اہم ہوں گے۔
تہاڑ جیل سے باہر آئے
گرفتاری کے بعد سوتنتر بھاردواج کو قانونی کارروائی کے تحت تہاڑ جیل بھیجا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کی جانب سے عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست پیش کی گئی۔
عدالت سے تین ہفتوں کی عبوری ضمانت ملنے کے بعد جیل سے رہائی کی کارروائی مکمل کی گئی اور وہ جمعرات کی دیر رات جیل سے باہر آگئے۔
معاملے میں آگے کیا ہوگا؟
عبوری ضمانت ملنے کے باوجود مارپیٹ سے متعلق اصل معاملہ ختم نہیں ہوا ہے۔ قانونی کارروائی اپنی جگہ جاری رہے گی اور عدالت کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کی پابندی ضروری ہوگی۔
اس کے ساتھ ہی معاملے سے متعلق پولیس کی کارروائی اور عدالتی سماعت بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔ مزید کارروائی عدالت کے آئندہ احکامات اور کیس کی پیش رفت پر منحصر ہوگی۔
عبوری ضمانت کا کیا مطلب ہے؟
عبوری ضمانت کسی شخص کو محدود مدت کے لیے دی جانے والی عارضی قانونی راحت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ عدالت نے ملزم کو مقدمے میں بری کر دیا ہے یا الزامات کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوتنتر بھاردواج کے معاملے میں بھی عدالت نے صرف تین ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دی ہے۔ کیس سے متعلق دیگر قانونی کارروائی اس مدت کے دوران اور اس کے بعد بھی جاری رہ سکتی ہے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
