تفریحی دنیا میں سوشل میڈیا ٹرولنگ ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ حال ہی میں بگ باس کے ویک اینڈ کا وار میں سلمان خان نے سوشل میڈیا پر فنکاروں کو ذاتی طور پر نشانہ بنانے والے ٹرولرز پر سخت ناراضی ظاہر کی تھی۔ اب اداکارہ اور سابق مرکزی وزیر سمریتی ایرانی نے بھی آن لائن ٹرولنگ کے خلاف اپنی آواز اٹھائی ہے۔ سمریتی ایرانی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی 2‘ کی اپنی ساتھی اداکاراؤں کے ساتھ نظر آئیں۔ اس ویڈیو میں فنکاروں نے اپنے بارے میں سوشل میڈیا پر کی جانے والی مختلف قسم کی تنقید اور توہین آمیز تبصروں کا ذکر کیا۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اداکارہ کترینہ کیف کو ان کے جسم اور وزن میں تبدیلی کے باعث سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جا رہا تھا۔ خاص طور پر ماں بننے کے بعد ان کی ظاہری شکل کو لے کر مختلف طرح کے تبصرے سامنے آئے۔ اسی معاملے پر سلمان خان نے بگ باس کے ویک اینڈ کا وار میں ٹرولرز کے رویے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
سلمان خان نے اپنی گفتگو کے دوران سوشل میڈیا پر لوگوں کے ذاتی تبصروں پر ناراضی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی فنکار کی ذاتی زندگی یا جسمانی شکل کو مذاق کا موضوع بنانا مناسب نہیں ہے۔ سلمان کا انداز اس وقت مزید نمایاں ہوگیا جب انہوں نے اپنی شرٹ تک اتار دی اور ٹرولرز کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اب انہیں ٹرول کیا جائے۔
کترینہ کیف کے لیے سلمان خان کی حمایت کے بعد تفریحی اور ٹی وی انڈسٹری کے کئی فنکاروں کی جانب سے بھی آن لائن ٹرولنگ کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔ اسی سلسلے میں ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی 2‘ کی ٹیم نے ایک ویڈیو بنائی جس میں سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی گئی کہ وہ فنکاروں کے خلاف ذاتی اور توہین آمیز تبصرے کرنے سے گریز کریں۔
ویڈیو میں سب سے پہلے اداکارہ گوری پردھان نظر آتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ لوگ اکثر ان سے کہتے ہیں کہ انہیں بات کرنے کا طریقہ کسی دوسرے فنکار سے سیکھنا چاہیے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ سوشل میڈیا پر فنکاروں کے بولنے اور گفتگو کرنے کے انداز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اس کے بعد راوی گپتا اپنے تجربے کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ نائٹ سوٹ میں کیوں نظر آتی ہیں۔ ان کی بات کے ذریعے لباس اور ذاتی انداز کو لے کر سوشل میڈیا پر کی جانے والی مسلسل تنقید کی طرف توجہ دلائی گئی۔
اس کے بعد ریتو چودھری اپنی بات رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہ بھی کہیں، لیکن ان کی والدہ کے بارے میں مسلسل تبصرے کیے جاتے ہیں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ اپنی والدہ کو یہ کرنے کے لیے کہیں یا وہ کرنے کے لیے کہیں۔ اس حصے میں یہ دکھایا گیا کہ سوشل میڈیا ٹرولنگ بعض اوقات فنکاروں کے خاندان تک بھی پہنچ جاتی ہے۔
اس کے بعد سمریتی ایرانی ویڈیو میں آتی ہیں اور ٹرولنگ کے بارے میں براہ راست بات کرتی ہیں۔ وہ ایک توہین آمیز لفظ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ کس طرح ماؤں اور خاندان کے افراد کو بھی سوشل میڈیا پر نامناسب الفاظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا یہ حصہ ویڈیو میں خاص طور پر نمایاں رہا۔
ویڈیو کے اختتام پر سمریتی ایرانی لوگوں سے اپیل کرتی ہیں کہ اگر کسی کے بارے میں اچھی بات نہیں کہہ سکتے تو کم از کم بری بات نہ کہیں۔ انہوں نے لوگوں سے مثبت اور مہذب زبان استعمال کرنے کی درخواست کی۔ اس دوران انہوں نے سلمان خان کے حالیہ بیان کا بھی ذکر کیا اور لوگوں سے کہا کہ کم از کم ان کی بات تو سنیں۔
سمریتی ایرانی کا پیغام یہ تھا کہ سوشل میڈیا پر اختلاف رائے اپنی جگہ موجود ہوسکتا ہے، لیکن کسی شخص کے جسم، خاندان، لباس یا ذاتی زندگی کو نشانہ بنا کر توہین کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان کی اپیل کا مقصد سوشل میڈیا صارفین کو زیادہ ذمہ داری کے ساتھ تبصرہ کرنے کی طرف متوجہ کرنا تھا۔
آن لائن ٹرولنگ گزشتہ کئی برسوں سے تفریحی صنعت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اداکاروں اور اداکاراؤں کو وزن، رنگ، لباس، عمر، ذاتی تعلقات، کام اور ظاہری شکل کی بنیاد پر مختلف قسم کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی مرتبہ تنقید اور ذاتی توہین کے درمیان فرق بھی ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
کترینہ کیف کے معاملے نے بھی اسی بحث کو دوبارہ سامنے لایا ہے کہ کسی خاتون کے ماں بننے کے بعد اس کے جسم اور وزن میں آنے والی تبدیلی کو کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔ سلمان خان نے ٹرولنگ کے خلاف ناراضی ظاہر کی، جبکہ سمریتی ایرانی اور ٹی وی فنکاروں نے بھی لوگوں سے محتاط اور احترام والی زبان استعمال کرنے کی اپیل کی۔
’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی 2‘ کی ٹیم کی ویڈیو کا پیغام صرف کترینہ کیف یا کسی ایک واقعے تک محدود نہیں ہے۔ اس میں یہ بات اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر لکھے گئے الفاظ کسی بھی انسان کی عزت نفس اور نجی زندگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
سمریتی ایرانی کی اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا تفریحی صنعت کا ایک بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ فنکاروں کے لیے لوگوں کی رائے اہم بھی ہوتی ہے، لیکن ذاتی اور توہین آمیز تبصرے کئی مرتبہ عام تنقید سے آگے نکل جاتے ہیں۔
سلمان خان اور سمریتی ایرانی کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ سوشل میڈیا پر آزادی اظہار کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے یا نہیں۔ فنکاروں کی جانب سے مسلسل یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اختلاف یا تنقید کے باوجود کسی شخص کی عزت اور نجی زندگی کا خیال رکھا جانا چاہیے۔
مجموعی طور پر، اس پورے معاملے نے آن لائن ٹرولنگ، باڈی شیمنگ اور سوشل میڈیا پر ذاتی تبصروں کے مسئلے کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ سمریتی ایرانی نے اپنے پیغام کے ذریعے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر کسی کے بارے میں اچھا نہیں کہا جا سکتا تو کم از کم برا کہنے سے گریز کیا جائے اور سوشل میڈیا پر مثبت ماحول بنانے کی کوشش کی جائے۔
میٹا ہیڈ لائن: سمریتی ایرانی نے ٹرولرز کو جواب دیا، بولیں برا مت بولیں
میٹا ڈسکرپشن: سلمان خان کے بعد سمریتی ایرانی نے بھی سوشل میڈیا ٹرولنگ کے خلاف آواز اٹھائی اور فنکاروں، خواتین اور ان کے خاندانوں کے خلاف توہین آمیز تبصروں سے بچنے کی اپیل کی۔
میٹا کی ورڈز: سمریتی ایرانی، سلمان خان، ٹرولرز، کترینہ کیف، بگ باس، ویک اینڈ کا وار، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی 2، سوشل میڈیا ٹرولنگ، باڈی شیمنگ، تفریحی خبریں، ٹی وی نیوز






.jpg)
.jpg)







.webp)
