تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
RBI نے ریپو ریٹ بڑھا کر 5.50 فیصد کیا، EMI مہنگی ہونے کا خدشہ


ریزرو بینک آف انڈیا نے اکتوبر 2026 کی مانیٹری پالیسی کمیٹی یعنی MPC میٹنگ میں شرح سود کے حوالے سے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ RBI نے پالیسی ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 5.25 فیصد سے بڑھا کر 5.50 فیصد کردیا ہے۔ یہ فروری 2023 کے بعد ریپو ریٹ میں پہلی اضافہ ہے۔

RBI گورنر سنجے ملہوترا کی سربراہی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا۔ شرح سود میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں، خوراک کی قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ :

ریپو ریٹ میں اضافے کے ساتھ دیگر پالیسی ریٹس میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اسٹینڈنگ ڈپازٹ فیسلٹی یعنی SDF ریٹ 5.25 فیصد جبکہ مارجنل اسٹینڈنگ فیسلٹی اور بینک ریٹ 5.75 فیصد کردیا گیا ہے۔ 

RBI نے ریپو ریٹ کیوں بڑھایا؟

ریپو ریٹ میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ مہنگائی کا بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ مرکزی بینک کے سامنے ایک طرف ہندوستان کی مضبوط اقتصادی ترقی ہے، جبکہ دوسری جانب خام تیل اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے عالمی خام تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے خام تیل کی قیمت میں اضافہ ملکی معیشت اور مہنگائی دونوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔

RBI نے مالی سال 2026-27 کے لیے مہنگائی کی پیش گوئی بڑھا کر 5.2 فیصد کردی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینک آنے والے مہینوں میں قیمتوں کے دباؤ کو لے کر محتاط ہے۔ :

 GDP گروتھ کے اندازے میں اضافہ

ریپو ریٹ بڑھانے کے باوجود RBI نے ہندوستانی معیشت کی ترقی کے حوالے سے مثبت انداز اپنایا ہے۔ مرکزی بینک نے مالی سال 2026-27 کے لیے حقیقی GDP گروتھ کا اندازہ 6.7 فیصد سے بڑھا کر 7.1 فیصد کردیا ہے۔

یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ RBI کو ہندوستانی معیشت میں مضبوط رفتار برقرار رہنے کی امید ہے۔ اپریل سے جون کی سہ ماہی میں ہندوستان کی GDP گروتھ 7.8 فیصد رہی تھی، جو توقعات سے بہتر کارکردگی تھی۔ 

RBI کے مطابق ملکی اقتصادی سرگرمیوں میں مضبوطی برقرار ہے۔ کھپت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں سرگرمیوں نے معیشت کو سہارا دیا ہے، جس کی وجہ سے مرکزی بینک نے اپنے سابقہ GDP اندازے میں 40 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے۔

 کیا EMI مہنگی ہوسکتی ہے؟

ریپو ریٹ میں اضافہ قرض لینے والے صارفین کے لیے اہم ہے۔ ریپو ریٹ وہ شرح ہے جس پر RBI بینکوں کو قلیل مدتی رقم فراہم کرتا ہے۔ جب مرکزی بینک ریپو ریٹ بڑھاتا ہے تو بینکوں کی فنڈنگ لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کا اثر قرض کی شرح سود پر پڑ سکتا ہے۔

فلوٹنگ ریٹ والے ہوم لون، کار لون اور بعض دیگر قرضوں کی EMI میں اضافہ ممکن ہے۔ تاہم اصل اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ متعلقہ بینک اپنی قرض کی شرح سود میں کب اور کتنا اضافہ کرتے ہیں۔ 

فکسڈ ریٹ والے قرض لینے والوں پر فوری اثر مختلف ہوسکتا ہے، جبکہ فلوٹنگ ریٹ پر قرض لینے والے صارفین کو اپنی نئی شرح سود اور EMI پر نظر رکھنی ہوگی۔

 FD اور بچت پر کیا اثر ہوگا؟

ریپو ریٹ میں اضافہ بینکوں کی ڈپازٹ شرحوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ بینک فنڈنگ کی صورتحال اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق FD اور دیگر ڈپازٹ اسکیموں کی شرح سود میں تبدیلی کرسکتے ہیں۔

تاہم تمام بینک ایک ہی وقت میں یا ایک ہی شرح سے تبدیلی کریں، یہ ضروری نہیں ہے۔ ہر بینک اپنی لیکویڈیٹی، ڈپازٹ کی ضرورت اور مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق فیصلہ کرسکتا ہے۔

 مغربی ایشیا کی کشیدگی بھی بڑا خطرہ

RBI کے لیے عالمی صورتحال بھی ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے اور اس کا اثر عالمی مالیاتی بازاروں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹ اور پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کا اثر مختلف اشیا اور خدمات کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے RBI کے سامنے مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور اقتصادی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنے کا چیلنج ہے۔ 

عالمی تجارت سے متعلق غیر یقینی صورتحال، ترقی یافتہ معیشتوں میں بانڈ ییلڈ میں تبدیلی، ڈالر کی مضبوطی اور عالمی مالیاتی بازاروں میں اتار چڑھاؤ بھی ہندوستان کے لیے اہم خطرات ہیں۔

 آگے RBI کا کیا رخ ہوگا؟

ریپو ریٹ میں اضافے کے ساتھ RBI نے اپنی مانیٹری پالیسی کا رخ *‘کیلِبریٹڈ ٹائٹننگ’* یعنی مرحلہ وار اور محتاط مالیاتی سختی کی طرف تبدیل کیا ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ مرکزی بینک مہنگائی کے خطرات کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔ 

آنے والے دنوں میں RBI کے فیصلے مہنگائی، خام تیل کی قیمتوں، عالمی مالیاتی حالات اور ہندوستان کی اقتصادی سرگرمیوں پر منحصر ہوں گے۔ مرکزی بینک کے لیے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کو قابو میں رکھتے ہوئے اقتصادی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنا ہوگا۔

مجموعی طور پر RBI کا یہ فیصلہ عام صارفین، قرض لینے والوں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شعبے کے لیے اہم ہے۔ ریپو ریٹ میں اضافہ کچھ قرضوں کو مہنگا کرسکتا ہے اور EMI پر دباؤ ڈال سکتا ہے، جبکہ 7.1 فیصد GDP گروتھ کا نیا اندازہ ہندوستانی معیشت کی مضبوطی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·