تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
میٹا بچوں کے جنسی استحصال کے معاملات قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو رپورٹ کرے گا

فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق معاملات قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو رپورٹ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مرکزی حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کی آن لائن حفاظت کو لے کر سختی کر رہی ہے۔

حکومتی حکام کے مطابق بھارت میں کام کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے بچوں کی آن لائن حفاظت ایک بنیادی ذمہ داری ہے۔ پلیٹ فارمز کو ایسی نقصان دہ اور خطرناک مواد کی شناخت، روک تھام اور اسے ہٹانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے جو بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

میٹا کی جانب سے بچوں کی حفاظت سے متعلق معاملات قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو رپورٹ کرنے پر رضامندی کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جواب دہی مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق صرف رپورٹنگ کا نظام کافی نہیں ہوگا اور پلیٹ فارمز کو بچوں کی مجموعی آن لائن حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔

 بچوں کی حفاظت سے متعلق معاملات رپورٹ کرنے پر رضامندی

ذرائع کے مطابق بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانے کی کوششوں کے تحت میٹا نے بچوں کی حفاظت سے متعلق معاملات قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو رپورٹ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اس اقدام کا مقصد سنگین معاملات کو متعلقہ حکام تک پہنچانا اور ضرورت پڑنے پر بروقت قانونی کارروائی کا راستہ ہموار کرنا ہے۔

بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق مواد انتہائی سنگین نوعیت کا آن لائن نقصان دہ مواد سمجھا جاتا ہے۔ ایسے مواد کی شناخت، اس کے پھیلاؤ کو روکنا اور مشتبہ معاملات کی مناسب اطلاع دینا ٹیکنالوجی کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا ہے کہ وہ نقصان دہ مواد کی شناخت اور اسے ہٹانے کے لیے مؤثر نظام قائم کریں اور سنگین معاملات میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔

 دیگر پلیٹ فارمز سے بھی حکومت کی بات چیت

حکومت کی توجہ صرف میٹا تک محدود نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق حکام بچوں سے متعلق نقصان دہ مواد کی شناخت اور اسے ہٹانے کے سلسلے میں دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ بھی مسلسل بات چیت کر رہے ہیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ بچوں کی آن لائن حفاظت پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ جو پلیٹ فارم بچوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات نہیں کریں گے، ان کے خلاف متعلقہ قوانین اور ضوابط کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

بچوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال میں اضافے کے ساتھ آن لائن استحصال اور نقصان دہ مواد سے متعلق خدشات بھی بڑھے ہیں۔ اسی وجہ سے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر اپنے حفاظتی نظام کو مضبوط بنانے اور شکایات پر تیزی سے کارروائی کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

بچوں کے حقوق کے کمیشن نے میٹا کے نمائندوں کو طلب کیا تھا

اس معاملے میں قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال نے بھی کارروائی کی تھی۔ کمیشن نے 9 ستمبر کو بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق مبینہ اشتہارات کی جانچ کے سلسلے میں میٹا انڈیا کے نمائندوں کو طلب کیا تھا۔

کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیا تھا جن میں میٹا کے زیر ملکیت پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق مواد والے مبینہ اشتہارات کے سامنے آنے کا ذکر کیا گیا تھا۔

کمیشن نے ان الزامات کے سلسلے میں کمپنی سے وضاحت بھی طلب کی تھی۔ کمپنی نے اس نوٹس کے بعد کمیشن کے سامنے اپنا جواب پیش کیا تھا۔

اب میٹا کی جانب سے بچوں کی حفاظت سے متعلق معاملات قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو رپورٹ کرنے پر رضامندی کو کمپنی کے پلیٹ فارمز سے متعلق جاری وسیع جانچ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

 انسانی حقوق کمیشن نے بھی جانچ کے احکامات دیے

قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی دہلی پولیس کو معاملے کی تفصیلی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کمیشن نے ان الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ میٹا کے زیر ملکیت ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ادا شدہ اشتہارات کے ذریعے بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق مواد کو مبینہ طور پر فروغ دیا جا رہا تھا۔

بچوں کے حقوق اور انسانی حقوق سے متعلق اداروں کی کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری اور بچوں کی آن لائن حفاظت کا معاملہ مزید اہم ہو گیا ہے۔

 ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جواب دہی پر زور

حکومت مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو صرف مواد فراہم کرنے والے پلیٹ فارم کے طور پر اپنی ذمہ داری سے بچنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ خاص طور پر بچوں سے متعلق معاملات میں پلیٹ فارمز کو زیادہ احتیاط اور تیزی سے کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

میٹا کی جانب سے بچوں کی حفاظت سے متعلق معاملات قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو رپورٹ کرنے پر رضامندی کے بعد اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اس نظام کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے اور سنگین معاملہ سامنے آنے کے بعد متعلقہ حکام کو کتنی تیزی سے اطلاع دی جاتی ہے۔

فی الحال حکومت دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ بھی بات چیت کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں بچوں کی آن لائن حفاظت، نقصان دہ مواد کی روک تھام اور سوشل میڈیا کمپنیوں کی جواب دہی کو مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جانے کا امکان ہے۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·