تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
تمام چیلنجز کے باوجود آگے بڑھتا رہا سنگھ: سنجے گپتا


ناگپور میں آر ایس ایس کے وجے دشمی پروگرام سے سنجے گپتا کا خطاب

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے وجے دشمی پروگرام کا انعقاد مہاراشٹر کے شہر ناگپور میں کیا گیا۔ اس پروگرام میں روزنامہ دینک جاگرن کے ایڈیٹر ان چیف سنجے گپتا مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے سنگھ کے قیام، اس کے بنیادی مقاصد، تاریخی سفر اور ہندوستانی سماج میں اس کے کردار پر تفصیل سے گفتگو کی۔

سنجے گپتا نے وجے دشمی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے یوم تاسیس کی مبارک باد بھی پیش کی۔ ان کے خطاب میں ہندو سماج کے اتحاد، قومی شناخت، ہندوستانی ثقافت، حب الوطنی اور مستقبل میں کردار سازی جیسے موضوعات شامل رہے۔

ہندو سماج کا اتحاد اور ملک کی آزادی سنگھ کے بنیادی مقاصد

سنجے گپتا نے کہا کہ تقریباً 101 سال قبل جب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا قیام عمل میں آیا، اس وقت ہندوستان برطانوی حکومت کے زیر اقتدار تھا۔ اس دور کے سماجی اور سیاسی حالات آج کے حالات سے کافی مختلف تھے۔

ان کے مطابق، سنگھ کے قیام کے ابتدائی مقاصد میں ہندو سماج کو متحد کرنا، اسے مضبوط بنانا اور ملک کی آزادی کے لیے کام کرنا شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سماج میں اتحاد پیدا کرنے اور لوگوں کو اپنی تہذیبی شناخت کے بارے میں بیدار کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔

سنجے گپتا نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ آزادی کا تصور صرف سیاسی آزادی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں سماج، ثقافت اور قومی شناخت کے بارے میں شعور پیدا کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد سنگھ نے فرد کی تعمیر، ہندوستانیت اور ملک کے تئیں وفاداری کو اپنے اہم مقاصد میں شامل کیا۔ ان کے مطابق، کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے شہریوں میں نظم و ضبط، ذمہ داری اور ملک کے تئیں فرض شناسی کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔

چیلنجز کے باوجود مسلسل آگے بڑھتا رہا سنگھ

اپنے خطاب میں سنجے گپتا نے آزادی کے بعد سنگھ کو درپیش سیاسی اور نظریاتی چیلنجز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت سیاسی نظام کے بعض حلقوں نے سنگھ کے نظریات کو قبول نہیں کیا، کیونکہ ان کے درمیان سیاسی اور نظریاتی اختلافات موجود تھے۔

سنجے گپتا کے مطابق، ان اختلافات کے باوجود سنگھ نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور اپنے راستے پر آگے بڑھتا رہا۔ انہوں نے تنظیم کے نظریاتی تسلسل اور اس کے تنظیمی ڈھانچے کو اس کے تاریخی سفر کا اہم حصہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی تنظیم کو اپنے نظریات اور سرگرمیوں کے حوالے سے اختلافات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، کسی تنظیم کے کردار کو سمجھنے کے لیے اس کے قیام کے وقت کے حالات اور بعد میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

جن سنگھ سے بھارتیہ جنتا پارٹی تک کے سفر کا ذکر

سنجے گپتا نے اپنے خطاب میں بھارتیہ جن سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سیاسی تاریخ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد قوم پرستانہ نظریات سے متاثر کئی افراد نے سیاست میں حصہ لیا اور جن سنگھ کے قیام میں اپنا کردار ادا کیا۔

بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی ایک اہم سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ سنجے گپتا نے بی جے پی کی تنظیمی مضبوطی اور اس کے نظریاتی پس منظر کے حوالے سے آر ایس ایس کے کردار کو اہم قرار دیا۔

ان کے مطابق، ہندوستانیت، قوم پرستی اور بھارتی ثقافتی اقدار سے متعلق سوچ نے پارٹی کی ترقی میں حصہ لیا۔ انہوں نے بی جے پی کے رہنماؤں کے حوالے سے بھی کہا کہ ان میں بھارتی ثقافت اور قومی وابستگی کا شعور سنگھ کے نظریات سے متاثر رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سنگھ اور اس سے وابستہ تنظیموں کے نظریات پر عوامی سطح پر بحث ہوتی رہی ہے۔ جہاں ناقدین ان تنظیموں پر ہندو انتہا پسندی کو فروغ دینے کے الزامات لگاتے ہیں، وہیں سنجے گپتا نے اپنے خطاب میں بھارتی ثقافت اور ہندو روایات کے تحفظ میں سنگھ کے کردار کی حمایت کی۔

یہ خیالات سنجے گپتا کے خطاب کا حصہ تھے۔ ہندوستانی سیاست اور سماج میں آر ایس ایس کے کردار کے حوالے سے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی آرا مختلف ہیں۔

ہندو روایات اور بھارتی ثقافت کے تحفظ پر اظہار خیال

سنجے گپتا نے کہا کہ ان کے خیال میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے ہندو ر

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·