تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
جَنتر منتر پر احتجاج بند، دہلی میں تین متبادل مقامات مقرر


دہلی میں احتجاج اور ریلیوں کے لیے مقررہ مقامات سے متعلق انتظامات میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے ایک نیا حکم جاری کرتے ہوئے جَنتر منتر پر احتجاج کے موجودہ انتظامات میں ترمیم کی ہے۔ حکم کے مطابق سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور دیگر گروپوں کو اب جَنتر منتر کے بجائے مقررہ متبادل مقامات پر اپنے احتجاج منعقد کرنے ہوں گے۔ ان مقامات میں رام لیلا میدان، بُراڑی میدان اور مشرقی دہلی کا سی بی ڈی گراؤنڈ شامل ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وسطی دہلی میں احتجاجی سرگرمیوں کے دوران ٹریفک، حفاظتی انتظامات اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہونے کے خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں مظاہروں کے دوران سیکیورٹی بڑھائی گئی، سڑکوں پر رکاوٹیں لگائی گئیں اور ٹریفک کے راستوں میں تبدیلی کی گئی۔ اس صورت حال سے مسافروں، مقامی رہائشیوں اور کاروباری افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جَنتر منتر پر احتجاج کے حوالے سے نیا حکم

دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار کی جانب سے 11 اکتوبر کو جاری حکم میں احتجاج کے لیے مقررہ مقامات سے متعلق انتظامات میں تبدیلی کی گئی ہے۔ حکم میں تین متبادل مقامات کا ذکر کیا گیا ہے اور جَنتر منتر پر سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور دیگر گروپوں کے احتجاج پر پابندی کی بات کہی گئی ہے۔

اس فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور مختلف تحریکوں سے وابستہ گروپوں کو احتجاج کے لیے نئے مقررہ مقامات کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ان مقامات پر مظاہرے منعقد کرنے کے لیے الگ سے تفصیلی اور نظرثانی شدہ معیاری طریقۂ کار جاری کیا جائے گا۔ اس میں اجازت لینے کا طریقہ، حفاظتی انتظامات، شرکا کی تعداد، ہجوم کو منظم کرنے اور دیگر انتظامی شرائط سے متعلق وضاحت کی جا سکتی ہے۔

احتجاج منعقد کرنے والے گروپوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ پروگرام طے کرنے سے پہلے متعلقہ ہدایات اور اجازت کے ضابطوں کی معلومات حاصل کریں۔ نئے حکم کی مکمل حدود اور اس کے نفاذ سے متعلق صورت حال کو سمجھنے کے لیے سرکاری حکم نامے اور بعد میں جاری ہونے والی ہدایات کا جائزہ لینا اہم ہوگا۔

 دہلی میں احتجاج کے لیے کون سے تین مقامات مقرر کیے گئے؟

دہلی پولیس کے حکم میں احتجاج کے لیے تین متبادل مقامات کا ذکر کیا گیا ہے۔

پہلا مقام رام لیلا میدان ہے، جہاں ماضی میں بھی بڑے سیاسی اور عوامی اجتماعات منعقد ہوتے رہے ہیں۔ دوسرا مقام بُراڑی میدان ہے، جو دہلی کے شمالی حصے میں واقع ہے۔ تیسرا مقام مشرقی دہلی کا سی بی ڈی گراؤنڈ ہے۔ ان تینوں مقامات کو احتجاج اور ریلیوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

ان مقامات پر احتجاج منعقد کرنے کے لیے الگ سے تفصیلی معیاری طریقۂ کار جاری کیا جائے گا۔ اس میں اجازت، سیکیورٹی، ہجوم کے انتظام، ٹریفک کی منصوبہ بندی اور دیگر ضروری شرائط کے بارے میں معلومات دی جا سکتی ہیں۔ منتظمین کو اپنے پروگراموں کی منصوبہ بندی کرتے وقت ان ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔

نئے مقامات کا تعین احتجاجی سرگرمیوں کو ایک مقررہ انتظامی نظام کے تحت منعقد کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، اس فیصلے کے عملی اثرات کا انحصار اجازت دینے کے طریقۂ کار اور نئے قواعد کے نفاذ پر ہوگا۔

 ٹریفک کی تبدیلی اور رکاوٹوں سے روزمرہ زندگی متاثر

وسطی دہلی میں احتجاج کے دوران سڑکوں پر رکاوٹیں، پولیس کی تعیناتی اور ٹریفک کے راستوں میں تبدیلی معمول کی آمدورفت کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس صورت حال سے دفاتر جانے والے افراد، عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے مسافروں، مقامی رہائشیوں اور کاروباری اداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اہم سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے لوگوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اسی طرح، بعض حالات میں میٹرو اسٹیشنوں تک رسائی یا انٹرنیٹ خدمات سے متعلق پابندیاں بھی عام زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ موجودہ صورت حال کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس بار انٹرنیٹ خدمات معمول کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تجارتی تنظیموں کی جانب سے بھی یہ مطالبہ سامنے آنے کا ذکر کیا گیا ہے کہ احتجاج ایسے مقامات پر منعقد کیے جائیں جہاں کاروباری سرگرمیوں پر کم اثر پڑے۔ اس پس منظر میں نئے احتجاجی مقامات کا تعین دہلی میں مظاہروں کے انتظامات میں ایک اہم تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔

 سابقہ حکم میں جزوی ترمیم

دہلی پولیس کے نئے حکم کو 28 اپریل 2022 کو جاری کیے گئے سابقہ مستقل حکم میں جزوی ترمیم قرار دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس حکم کی نقول دہلی پولیس کے سینئر افسران، خصوصی پولیس کمشنروں، مشترکہ پولیس کمشنروں، اضافی پولیس کمشنروں، ضلعی ڈپٹی کمشنروں اور دیگر متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی اور معلومات کے لیے بھیجی گئی ہیں۔

حکم میں کسی اختتامی تاریخ کا ذکر نہ ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم، اس کے طویل مدتی نفاذ اور پابندیوں کی مکمل حدود کو سمجھنے کے لیے سرکاری حکم نامے اور اس میں درج شرائط کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

آئندہ احتجاج کے لیے کیا بدلے گا؟

جَنتر منتر طویل عرصے سے سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور مختلف عوامی مسائل پر احتجاج کرنے والے گروپوں کے لیے ایک اہم مقام رہا ہے۔ اس مقام پر احتجاج کے انتظامات میں تبدیلی سے دہلی میں سیاسی اور سماجی تحریکوں کے انعقاد کے طریقے پر اثر پڑ سکتا ہے۔

اب احتجاج کرنے والی تنظیموں کو نئے مقررہ مقامات پر اجازت حاصل کرنے کے طریقۂ کار اور متعلقہ شرائط کو سمجھنا ہوگا۔ نئے معیاری طریقۂ کار کی تفصیلات اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوں گی کہ منتظمین اپنے پروگرام کس طرح طے کر سکیں گے اور انہیں کن انتظامی تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔

دہلی پولیس کے نئے حکم سے دارالحکومت میں احتجاج اور ریلیوں کے انتظامات میں تبدیلی سامنے آئی ہے۔ اس کا مقصد عوامی نظم و ضبط اور ٹریفک کو منظم کرنا بتایا گیا ہے، جبکہ اس فیصلے کے عملی نتائج کا انحصار نئے قواعد کے نفاذ، ہدایات کی وضاحت اور اجازت دینے کے طریقۂ کار پر ہوگا۔

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·