دہلی میں ہفتے کے روز ہونے والے مجوزہ احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔ جنتَر منتر اور نئی دہلی کے حساس علاقوں میں مظاہروں کے امکان کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) کو خط لکھ کر 57 میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند کرنے کی درخواست کی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، پولیس نے 9 اکتوبر کی رات 9 بجے سے 10 اکتوبر کو حالات معمول پر آنے تک ان اسٹیشنوں پر آمد و رفت روکنے کی تجویز دی ہے۔ تاہم، اسٹیشنوں کی بندش اور اس کی مدت کے بارے میں حتمی فیصلہ میٹرو انتظامیہ کی سرکاری اطلاع سے ہی واضح ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق، دہلی پولیس کے ٹرانسپورٹ رینج کے جوائنٹ کمشنر راج نیش گپتا نے اس معاملے میں میٹرو انتظامیہ کے منیجنگ ڈائریکٹر کو خط لکھا ہے۔ خط میں احتجاج کے دوران سکیورٹی برقرار رکھنے، بھیڑ کو قابو میں رکھنے اور کسی ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ مظاہروں کے دوران بڑی تعداد میں لوگ وسطی دہلی اور نئی دہلی کے مختلف علاقوں میں جمع ہوسکتے ہیں۔ اس سے میٹرو اسٹیشنوں، سڑکوں اور اہم مقامات کے آس پاس لوگوں کی آمد و رفت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
احتجاج کی اپیل کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی جانب سے کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کی قیادت والے حزب اختلاف کے اتحاد انڈیا کی جانب سے بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس نے جنتَر منتر اور نئی دہلی کے آس پاس کے علاقوں میں احتیاطی اقدامات شروع کردیے ہیں۔ حکام کی کوشش ہے کہ احتجاج کے دوران بھیڑ کو منظم رکھا جائے، حساس مقامات پر سکیورٹی برقرار رہے اور میٹرو اسٹیشنوں پر ضرورت سے زیادہ رش پیدا نہ ہو۔
اس بار پہلے سے تیاری کرنے کی ایک وجہ ماضی میں ہونے والے مظاہرے بھی بتائے جا رہے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، جولائی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران نئی دہلی ضلع میں معمول کی آمد و رفت اور ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ پولیس کے انتظامات کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین وہاں پہنچ گئے تھے، جس کے بعد بعض میٹرو اسٹیشنوں کو بھی بند کرنا پڑا تھا۔ اسی تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار پولیس پہلے ہی حفاظتی انتظامات کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ احتجاج کے دوران بھیڑ اور ٹریفک کے مسائل کو کم کیا جاسکے۔
ہفتے کے روز دہلی میں ٹریفک جام ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر جنتَر منتر اور دیگر حساس علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں تو اہم سڑکوں پر گاڑیوں کی رفتار کم ہوسکتی ہے اور کئی راستوں پر طویل قطاریں لگ سکتی ہیں۔ اگر مجوزہ منصوبے کے تحت میٹرو اسٹیشن بند کیے جاتے ہیں تو مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے متبادل اسٹیشنوں، بسوں یا دیگر ذرائع آمد و رفت کا استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورت حال سے خاص طور پر ان لوگوں کو پریشانی ہوسکتی ہے جو روزانہ دفتر، تعلیمی اداروں یا دیگر ضروری کاموں کے لیے میٹرو پر انحصار کرتے ہیں۔
پولیس نے جن 57 میٹرو اسٹیشنوں کو بند کرنے کی درخواست کی ہے، ان میں دہلی کے کئی اہم اور مصروف اسٹیشن شامل ہیں۔ اس فہرست میں جن پتھ، پٹیل چوک، سینٹرل سیکریٹریٹ، لوک کلیان مارگ، راجیو چوک، سیوا تیرتھ یعنی سابقہ صنعت بھون، منڈی ہاؤس، بارہ کھمبا روڈ، آئی ٹی او، دہلی گیٹ، خان مارکیٹ، آر کے آشرم مارگ، جھانڈے والان، سپریم کورٹ اور اندرا پرستھ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شیواجی اسٹیڈیم، آئی این اے، حوض خاص، زور باغ، ارجن گڑھ، سرائے کالے خان نظام الدین، لاجپت نگر، جنگ پورہ، آشرم، کالندی کنج، جسولا، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اوکھلا وہار کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔
مجوزہ فہرست میں چاوڑی بازار، جامع مسجد، کرول باغ، راجندر پلیس، وشو ودیالیہ، ودھان سبھا، سول لائنز، کشمیری گیٹ، اندرلوک، جی ٹی بی نگر، کنہیا نگر، نیتاجی سبھاش پلیس، آزاد پور، آدرش نگر، جہانگیر پوری، حیدرپور بادیلی موڑ اور مجلس پارک بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شالیمار باغ، سیلم پور، موج پور، جعفرآباد، ویلکم، یمنا وہار، کھجوری خاص، شاہدرہ، رٹھالہ، روہنی ایسٹ اور روہنی ویسٹ کے نام بھی دیے گئے ہیں۔ فراہم کردہ فہرست میں آئی این اے اسٹیشن کی دونوں میٹرو لائنوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ سفر شروع کرنے سے پہلے میٹرو خدمات سے متعلق سرکاری اطلاع ضرور دیکھ لیں۔ پولیس کی جانب سے اسٹیشن بند کرنے کی درخواست اور میٹرو انتظامیہ کا حتمی فیصلہ الگ ہوسکتا ہے۔ اس لیے یہ فرض نہیں کرنا چاہیے کہ تمام مجوزہ اسٹیشن پہلے ہی بند کردیے گئے ہیں۔ اگر بندش نافذ ہوتی ہے تو مسافروں کو سفر کے لیے اضافی وقت رکھنا چاہیے، متبادل راستوں پر غور کرنا چاہیے اور ٹریفک سے متعلق ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔
مجموعی طور پر پولیس کا یہ اقدام مجوزہ احتجاج کے دوران سکیورٹی اور عوامی آمد و رفت کو منظم رکھنے کی تیاری کا حصہ ہے۔ حکام کی کوشش ہے کہ حساس علاقوں میں بھیڑ کو قابو میں رکھا جائے اور ٹریفک کی رکاوٹوں کو کم کیا جائے۔ میٹرو اسٹیشنوں کے کھلنے، بند ہونے اور خدمات کی اصل صورت حال جاننے کے لیے دہلی میٹرو کی سرکاری اطلاعات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
