تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
دھار میں وراہ مارچ سے پہلے پولیس کا بڑا ایکشن، 20 سے زائد افراد زیر حراس


مدھیہ پردیش کے دھار شہر میں مجوزہ وراہ مارچ سے پہلے پولیس اور انتظامیہ نے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ مارچ کی اجازت منسوخ کیے جانے کے باوجود منتظمین کی جانب سے اسے نکالنے کا اعلان کیے جانے کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کی۔ دستیاب معلومات کے مطابق منگل کی دوپہر تک 20 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا تھا۔

پولیس کارروائی کے بعد دھار شہر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ حساس سمجھے جانے والے علاقوں میں اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر لات مسجد علاقے میں پولیس کی موجودگی بڑھائی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال کو روکا جا سکے۔

پولیس اور انتظامیہ کی ترجیح شہر میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ حکام کی جانب سے لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ پولیس ممکنہ بھیڑ جمع ہونے والے مقامات پر بھی مسلسل نظر رکھ رہی ہے۔

مارچ کی اجازت منسوخ ہونے کے بعد کارروائی

دھار انتظامیہ نے مجوزہ وراہ مارچ کی اجازت منسوخ کر دی تھی۔ اس کے باوجود منتظمین کی جانب سے مارچ نکالنے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی انتظامات بڑھا دیے۔

پولیس نے سناتن پرہری سمیتی سے وابستہ کچھ افراد کو حراست میں لینا شروع کیا۔ پولیس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کا مقصد مارچ کے حوالے سے کسی ممکنہ تصادم یا امن و امان کی صورتحال کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔

منگل کی دوپہر تک 20 سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ پولیس اب حراست میں لیے گئے افراد کے کردار اور مارچ کی تیاریوں سے ان کے مبینہ تعلق کی بھی جانچ کر رہی ہے۔

لات مسجد علاقے میں سخت نگرانی

دھار کے لات مسجد علاقے میں سکیورٹی کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ علاقے میں آنے جانے والی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

انتظامیہ کی کوشش ہے کہ کسی بھی جگہ بڑی تعداد میں لوگ جمع نہ ہوں اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جس سے شہر میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ پولیس افسران صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔

شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

وراہ مارچ کے معاملے پر دھار میں پولیس اور انتظامیہ پوری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حساس مقامات پر اضافی پولیس فورس تعینات کرنے کے ساتھ افسران کو بھی نگرانی کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور ایسی کسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں جس سے امن و امان متاثر ہو سکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

فی الحال پولیس کارروائی اور سکیورٹی انتظامات کے درمیان دھار شہر کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ مزید کارروائی انتظامیہ کی ہدایات اور امن و امان کی صورتحال کے مطابق کی جائے گی۔
 

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·