تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
سپریم کورٹ کے تین نئے ججوں نے حلف اٹھایا


نئی دہلی: سپریم کورٹ میں منگل، 6 اکتوبر کو تین نئے ججوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ حلف لینے والے ججوں میں *جسٹس سنیتا اگروال، جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس اپریش کمار سنگھ* شامل ہیں۔

تین نئے ججوں کے سپریم کورٹ میں شامل ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ میں کام کرنے والے ججوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 37 ہوگئی ہے۔ ان 37 ججوں میں صرف تین خواتین جج شامل ہیں۔

تینوں نئے ججوں نے باقاعدہ تقریب کے دوران عہدے کا حلف لیا اور اس کے ساتھ ہی ملک کی سب سے بڑی عدالت میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

 سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 37 ہوگئی

تین نئے ججوں کی تقرری کے بعد سپریم کورٹ میں موجودہ ججوں کی تعداد 37 ہوگئی ہے۔ نئے ججوں کی شمولیت کو عدالت کے کام کاج کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں آئینی معاملات، بنیادی حقوق، اہم قانونی تنازعات، انتظامی فیصلوں اور ملک کے اہم معاملات سے متعلق مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔

ایسے میں نئے ججوں کی تقرری سے مختلف بنچوں کو مزید مضبوطی ملنے کی امید ہے۔ نئے جج اپنے تجربے کی بنیاد پر مختلف اہم مقدمات کی سماعت کا حصہ بنیں گے۔

 جسٹس سنیتا اگروال کی تقرری

جسٹس سنیتا اگروال عدالتی شعبے میں طویل تجربہ رکھتی ہیں۔ سپریم کورٹ میں تقرری سے قبل وہ ہائی کورٹ کی جج کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔

اب سپریم کورٹ میں ان کی ذمہ داری اہم قانونی اور آئینی معاملات کی سماعت سے جڑی ہوگی۔ ان کی تقرری کو اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ان کی شمولیت کے بعد سپریم کورٹ میں خواتین ججوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔

 جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے نے بھی حلف لیا

جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے نے بھی سپریم کورٹ کے جج کے طور پر حلف لیا۔ وہ اس سے قبل ہائی کورٹ میں عدالتی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔

اپنے عدالتی کیریئر کے دوران انہوں نے مختلف نوعیت کے قانونی معاملات کی سماعت کی ہے۔ اب سپریم کورٹ میں وہ ملک کے اہم قانونی اور آئینی معاملات سے متعلق مقدمات کی سماعت کریں گے۔

ان کے عدالتی تجربے کو سپریم کورٹ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

 جسٹس اپریش کمار سنگھ سپریم کورٹ کے جج بنے

جسٹس اپریش کمار سنگھ بھی سپریم کورٹ کے نئے ججوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ وہ بھی ہائی کورٹ میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

سپریم کورٹ میں تقرری کے بعد اب وہ عدالت عظمیٰ کی مختلف بنچوں کا حصہ ہوں گے اور اہم قانونی معاملات کی سماعت کریں گے۔

ان کی تقرری کے ساتھ سپریم کورٹ میں تین نئے ججوں کی شمولیت کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔

37 ججوں میں صرف تین خواتین

تین نئے ججوں کی شمولیت کے بعد سپریم کورٹ میں مجموعی طور پر 37 جج ہوگئے ہیں۔ ان میں صرف تین خواتین جج ہیں۔

اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی ایک اہم موضوع رہی ہے۔ گزشتہ برسوں میں خواتین کی عدلیہ میں شرکت میں اضافہ ہوا ہے، لیکن سپریم کورٹ میں ان کی مجموعی تعداد اب بھی کم ہے۔

جسٹس سنیتا اگروال کی تقرری اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں موجود خواتین ججوں میں شامل ہوگئی ہیں۔

تاہم 37 ججوں میں صرف تین خواتین کی موجودگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

نئے ججوں کے سامنے اہم ذمہ داریاں

سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے اور یہاں ایسے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے جن کا اثر پورے ملک کے قانونی اور آئینی نظام پر پڑ سکتا ہے۔

آئین کی تشریح، بنیادی حقوق، ریاستی معاملات اور اہم قانونی تنازعات سمیت کئی حساس معاملات عدالت عظمیٰ کے سامنے آتے ہیں۔

ایسے میں تینوں نئے ججوں کے سامنے بڑی ذمہ داریاں ہوں گی۔ انہیں اپنے عدالتی تجربے کی بنیاد پر مختلف اہم مقدمات کی سماعت اور فیصلوں میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

تین نئے ججوں کے حلف اٹھانے کے ساتھ سپریم کورٹ میں عدالتی تجربے میں مزید اضافہ ہوا ہے اور عدالت کے کام کاج کو مزید مضبوط بنانے کی امید کی جا رہی ہے۔

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·