نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے راجیہ سبھا کی 12 نشستوں کے لیے انتخابات کے پروگرام کا اعلان کر دیا ہے۔ ان میں اتر پردیش کی 10 نشستیں، اتراکھنڈ کی 1 نشست اور مغربی بنگال کی 1 خالی نشست شامل ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر 12 نشستوں کے لیے انتخابی عمل مکمل کیا جائے گا۔
راجیہ سبھا انتخابات کے لیے نوٹیفکیشن 29 ستمبر کو جاری کیا جائے گا۔ امیدوار 6 اکتوبر تک اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر سکیں گے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ 7 اکتوبر کو ہوگی، جبکہ امیدوار 9 اکتوبر تک اپنا نام واپس لے سکیں گے۔
اگر کسی نشست پر مقابلہ ہوتا ہے تو 16 اکتوبر کو ووٹنگ ہوگی۔ ووٹنگ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہے گی اور ووٹوں کی گنتی اسی دن شام 5 بجے سے شروع ہوگی۔
اتر پردیش کی 10 راجیہ سبھا نشستیں موجودہ ارکان کی مدت مکمل ہونے کے بعد خالی ہوں گی۔ ان ارکان میں مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری، ارون سنگھ، برج لال، بی ایل ورما، رام گوپال یادو، نیرجا شیکھر، گیتا عرف چندر پربھا، رام جی، سیما اور ڈاکٹر دنیش شرما شامل ہیں۔
اتراکھنڈ سے نریش بنسل کی نشست پر انتخاب ہوگا۔ ان کی مدت مکمل ہونے کے بعد ریاست کی اس نشست کے لیے نئے رکن کا انتخاب کیا جائے گا۔
مغربی بنگال کی ایک نشست پر ضمنی انتخاب ہوگا۔ یہ نشست راجیہ سبھا رکن رکمنی ملک کے استعفے کے بعد خالی ہوئی ہے۔ راجیہ سبھا کے ریکارڈ کے مطابق رکمنی ملک کا استعفیٰ 16 جولائی 2026 سے مؤثر ہوا تھا۔
رکمنی ملک 2026 میں راجیہ سبھا کی رکن منتخب ہوئی تھیں اور اپریل میں انہوں نے ایوان میں حلف لیا تھا۔ بعد میں انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد مغربی بنگال کی اس خالی نشست پر ضمنی انتخاب کرایا جا رہا ہے۔
راجیہ سبھا کے انتخابات عام لوک سبھا یا اسمبلی انتخابات سے مختلف ہوتے ہیں۔ ریاستوں سے راجیہ سبھا کے ارکان کا انتخاب متعلقہ ریاست کی قانون ساز اسمبلی کے منتخب ارکان کرتے ہیں۔ اس انتخاب میں متناسب نمائندگی اور سنگل ٹرانسفریبل ووٹ کے طریقہ کار کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ان انتخابات کے اعلان کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان امیدواروں کے انتخاب اور نامزدگی کے عمل پر توجہ رہے گی۔ تاہم امیدواروں کی حتمی فہرست سامنے آنے کے بعد ہی مختلف نشستوں پر مقابلے کی مکمل تصویر واضح ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ بیلٹ پیپر پر ترجیحات درج کرنے کے لیے صرف ریٹرننگ افسر کی جانب سے فراہم کیا گیا مقررہ جامنی رنگ کا اسکیچ پین استعمال کیا جائے گا۔ انتخابی عمل میں اس ہدایت پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔
راجیہ سبھا پارلیمنٹ کا مستقل ایوان ہے اور اسے تحلیل نہیں کیا جاتا۔ اس کے ارکان کی مدت 6 سال ہوتی ہے اور ہر 2 سال میں تقریباً ایک تہائی ارکان ریٹائر ہوتے ہیں۔ خالی ہونے والی نشستوں کو مقررہ انتخابی عمل کے ذریعے پُر کیا جاتا ہے۔
29 ستمبر کو نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد انتخابی عمل باضابطہ طور پر شروع ہوگا۔ 6 اکتوبر نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ ہوگی، 7 اکتوبر کو کاغذات کی جانچ ہوگی اور 9 اکتوبر تک امیدوار اپنا نام واپس لے سکیں گے۔
اس کے بعد 16 اکتوبر کو ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کے ساتھ انتخابی عمل مکمل ہوگا۔ اتر پردیش، اتراکھنڈ اور مغربی بنگال کی ان نشستوں پر منتخب ہونے والے نئے ارکان راجیہ سبھا میں اپنی متعلقہ ریاستوں کی نمائندگی کریں گے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
