نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر، 21 ستمبر کو مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی رہنما ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت کی۔ اس عرضی میں الیکشن کمیشن کے اس عبوری فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت ترنمول کانگریس کے نام ‘آل انڈیا ترنمول کانگریس’ اور اس کے روایتی انتخابی نشان ‘پھول اور گھاس’ کے استعمال پر روک لگائی گئی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے ممتا بنرجی کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے معاملے کا ذکر کیا۔ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ پارٹی سے متعلق تنازع کی کارروائی الیکشن کمیشن میں جون میں شروع ہوئی تھی اور ان کی جانب سے جولائی میں جواب بھی داخل کیا گیا تھا۔
کپل سبل نے دلیل دی کہ اس کے باوجود الیکشن پروگرام جاری ہونے کے بعد کمیشن نے پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے معاملے کی فوری سماعت اور الیکشن کمیشن کے عبوری حکم پر روک لگانے کی درخواست کی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کپل سبل سے کہا کہ اس مرحلے پر معاملے پر تفصیلی بحث نہ کریں۔ رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس نے کہا، “زیادہ مت بولیے اور ابھی اس معاملے پر بحث نہ کریں۔ ورنہ دوسری طرف سے بھی بحث ہوگی۔ پہلے اسے فہرست میں شامل ہونے دیجیے۔”
اس کے بعد کپل سبل نے الیکشن کمیشن کی کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نئے نئے ریکارڈ بنا رہا ہے۔ عدالت نے اس کے بعد ممتا بنرجی کی عرضی کو جلد سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ پیر کے روز سپریم کورٹ نے معاملے کے بنیادی تنازع پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا بلکہ عرضی کو جلد سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے کی کارروائی آگے بڑھائی۔
کیا ہے پورا تنازع؟
یہ معاملہ ترنمول کانگریس کے اندر پیدا ہونے والے تنظیمی تنازع سے متعلق ہے۔ پارٹی کے دو مخالف دھڑوں نے ترنمول کانگریس کے نام، انتخابی نشان اور تنظیمی کنٹرول پر اپنا دعویٰ پیش کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے 17 ستمبر کو جاری اپنے عبوری حکم میں کہا کہ دونوں دھڑے آل انڈیا ترنمول کانگریس کی نمائندگی کا دعویٰ کر رہے ہیں اور اس تنازع پر تفصیلی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
آئندہ ضمنی انتخابات کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے عبوری انتظام کے تحت ‘آل انڈیا ترنمول کانگریس’ نام اور ‘پھول اور گھاس’ کے انتخابی نشان کو منجمد کردیا۔ اس کے بعد دونوں دھڑوں کو الگ الگ نام اور انتخابی نشان دیے گئے۔
18 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی کی قیادت والے دھڑے کو ‘ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس’ نام اور ‘فٹبال کھلاڑی’ کا انتخابی نشان دیا۔ دوسرے دھڑے کو ‘ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس’ نام اور ‘لفافہ’ کا انتخابی نشان دیا گیا۔ یہ نام اور نشان آئندہ ضمنی انتخابات کے لیے عبوری انتظام کے طور پر مختص کیے گئے ہیں۔
ضمنی انتخابات سے پہلے تنازع کیوں اہم ہے؟
الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ مغربی بنگال میں ہونے والے آئندہ اسمبلی ضمنی انتخابات سے پہلے سامنے آیا ہے۔ نندی گرام اور ریجن نگر اسمبلی حلقوں میں 6 اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔
ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کے عبوری فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے پارٹی کے اصل نام اور روایتی انتخابی نشان کے استعمال پر عائد پابندی کو ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے عرضی کو جلد فہرست میں شامل کرنے پر رضامندی کے بعد اب الیکشن کمیشن کے عبوری فیصلے کے خلاف ممتا بنرجی کی قانونی درخواست پر تفصیلی سماعت کا راستہ کھل گیا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اب سپریم کورٹ میں ممتا بنرجی کی عرضی پر تفصیلی سماعت ہوگی۔ عدالت کے سامنے الیکشن کمیشن کے عبوری فیصلے، پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کو منجمد کرنے کے عمل اور دونوں دھڑوں کے دعووں سے متعلق قانونی نکات رکھے جائیں گے۔
فی الحال الیکشن کمیشن کا عبوری انتظام برقرار ہے۔ دونوں دھڑوں کو آئندہ ضمنی انتخابات کے لیے الگ الگ عارضی نام اور انتخابی نشان دیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت میں اس قانونی تنازع سے متعلق مزید پیش رفت سامنے آئے گی۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
