نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ میں بدھ کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی عرضی پر سماعت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (SEM) کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت ان کی حراست میں 21 اکتوبر تک توسیع کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت کے سخت ریمارکس اور مشورے کے بعد دونوں رہنماؤں نے اپنی عرضی واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
اس معاملے کی سماعت جسٹس سبرامنیم پرساد کی سربراہی والی بنچ نے کی۔ دونوں رہنماؤں کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل ابھیک چمنی نے دلیل دی کہ حراست میں توسیع کا حکم قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ کے پاس اس طرح حراست بڑھانے کے اختیار پر سوالات ہیں اور اس فیصلے سے ان کے مؤکلوں کی شخصی آزادی متاثر ہوئی ہے۔
عدالت نے کیا کہا؟
سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے وکیل کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے متعلقہ اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے سامنے جاری کارروائی کا انتظار کریں اور اس کے بعد ضرورت پڑنے پر قانونی راستہ اختیار کریں۔
عدالت نے کہا کہ بحث اسی وقت ہونی چاہیے جب اس کی حقیقی ضرورت ہو۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگر مجسٹریٹ کے سامنے ہی معاملے کا حل نکل آتا ہے تو ہائی کورٹ میں مزید کارروائی کی ضرورت نہیں پڑ سکتی۔ تاہم، اگر فیصلہ دونوں رہنماؤں کے خلاف آتا ہے تو وہ قانون کے تحت دستیاب متبادل راستوں پر غور کر سکتے ہیں۔
عدالت نے امن و امان سے متعلق خدشات پر بھی تبصرہ کیا۔ بنچ کے مطابق، ایسے معاملات میں متعلقہ افراد کی سرگرمیوں، تنظیم کے کردار اور اس کے مقاصد کو سمجھنا اہم ہو سکتا ہے۔
تنظیم اور احتجاج کے مقصد پر سوالات
سماعت کے دوران عدالت نے دونوں رہنماؤں کی تنظیم اور اس کی سرگرمیوں کے مقاصد کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔ بنچ نے کہا کہ احتجاج کے پس منظر اور اس کے مقصد کو سمجھنا ضروری ہے، خصوصاً اس وقت جب امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہو۔
عدالت نے دونوں رہنماؤں کی عمر کے بارے میں بھی پوچھا۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ سورَو داس کی عمر 27 سال اور آشوتوش رانکا کی عمر 32 سال ہے۔ اس کے بعد عدالت نے جنریشن زی کی تعریف کے حوالے سے بھی سوال کیا۔ عرضی گزاروں کے وکیل کی دلیل
دونوں رہنماؤں کے وکیل نے دلیل دی کہ حراست میں توسیع کے حکم میں مناسب قانونی بنیادوں کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔ ان کے مطابق، حکم میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مستقبل میں کس ممکنہ خطرے کے پیش نظر دونوں کو مزید حراست میں رکھنا ضروری تھا۔
عرضی گزاروں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پولیس کی درخواست کی بنیاد پر حراست میں توسیع کی گئی اور اس بات کا مناسب آزادانہ جائزہ نہیں لیا گیا کہ آیا دونوں کو مزید حراست میں رکھنا ضروری تھا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل حراست میں رکھنا شخصی آزادی کے بنیادی حق کو متاثر کرتا ہے۔
وکیل نے یہ بھی دلیل دی کہ کسی محدود مقام پر احتجاج کرنا خود بخود عوامی امن کے لیے سنگین خطرہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ تمام نکات عرضی گزاروں کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی دلیلیں اور الزامات ہیں۔
قانونی راستوں پر عدالت کی وضاحت
سماعت کے دوران عدالت نے احتیاطی حراست، احتیاطی نظر بندی اور عدالتی جائزے کے دائرے پر بھی گفتگو کی۔ بنچ نے کہا کہ بعض حالات میں احتیاطی نظر بندی کو چیلنج کرنے کے لیے ہیبیس کارپس کی عرضی دائر کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے اپیل اور رِٹ کی کارروائی کے درمیان فرق بھی واضح کیا۔ اپیل میں عدالت حقائق اور ان کے جائزے پر غور کر سکتی ہے، جبکہ رِٹ کی کارروائی میں فیصلہ کرنے کے طریقۂ کار کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
بنچ نے وکیل سے یہ بھی پوچھا کہ جب متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے سماعت ہونی تھی تو اس مرحلے پر ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی قانونی بنیاد کیا تھی۔
دونوں رہنماؤں کو حراست میں کیوں لیا گیا تھا؟
دستیاب معلومات کے مطابق، دہلی پولیس نے 13 اکتوبر کو جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے کے واقعے کے بعد سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو حراست میں لیا تھا۔
اس کے بعد اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے 15 اکتوبر کو دونوں کو پانچ دن کی حراست میں بھیج دیا تھا۔ بعد میں ان کی حراست میں 21 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی۔ اسی حکم کو چیلنج کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ان کا مؤقف تھا کہ حراست میں توسیع کے لیے مناسب قانونی بنیادیں موجود نہیں تھیں اور اس فیصلے سے ان کی شخصی آزادی متاثر ہوئی۔
اب آگے کیا ہوگا؟
عدالت کے مشورے اور ریمارکس کے بعد دونوں رہنماؤں کے وکیل نے عرضی واپس لینے کی درخواست کی، جسے عدالت نے قبول کر لیا۔
وکیل کے مطابق، اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے سامنے ہونے والی سماعت کے بعد مزید قانونی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اب آئندہ کا لائحۂ عمل متعلقہ مجسٹریٹ کی کارروائی کے نتیجے اور قانون کے تحت دستیاب قانونی راستوں پر منحصر ہوگا۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
