دہلی میں احتجاج کے طریقوں کو منظم کرنے اور ان کے لیے واضح رہنما اصول مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کے انعقاد اور اس کے طریقوں کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار (SOP) نافذ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس سلسلے میں ایک باقاعدہ نظام قائم کیا جا سکے۔
اس معاملے کا ذکر سینئر وکیل سنجے پودار نے دہلی ہائی کورٹ میں کیا۔ انہوں نے قائم مقام چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی سربراہی والی بنچ کے سامنے درخواست کا حوالہ دیا۔ اس درخواست کا بنیادی مقصد دہلی میں احتجاج کے طریقوں کے لیے ایک واضح اور منظم طریقۂ کار مقرر کرنے کا مطالبہ ہے۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما نے عدالت کو بتایا کہ اسی نوعیت کا ایک معاملہ سپریم کورٹ میں پہلے سے زیر التوا ہے۔ اس اطلاع سے عدالت کے سامنے یہ بات آئی کہ احتجاج کے طریقوں اور ان سے متعلق ضوابط کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر غور ہے۔
درخواست میں دہلی میں احتجاج کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار، یعنی ایس او پی، نافذ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ عام طور پر ایس او پی کسی کام کو انجام دینے کے لیے مقررہ اصولوں اور رہنما ہدایات پر مشتمل ہوتی ہے۔ تاہم، دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ مجوزہ ایس او پی میں کن مخصوص ضوابط کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ میں اسی نوعیت کا معاملہ زیر التوا ہونے کی اطلاع کے بعد اس معاملے کی قانونی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ فی الحال درخواست میں احتجاج کے طریقوں کے لیے ایس او پی بنانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، جبکہ اس حوالے سے عدالت کی جانب سے کسی حتمی فیصلے یا ہدایت کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے۔
اب اس معاملے میں آئندہ عدالتی کارروائی اور عدالت کی جانب سے دی جانے والی ممکنہ ہدایات پر نظر رہے گی۔ فی الحال بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ دہلی میں احتجاج کے طریقوں کے لیے ایک واضح اور معیاری طریقۂ کار مقرر کیا جائے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
