بھارت اور چین کی سرحد پر سکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھارت تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) نے ’شوریہ کمانڈوز‘ کے نام سے ایک نئی جنگی یونٹ تیار کی ہے۔ آئی ٹی بی پی کے سربراہ شتروجیت سنگھ کپور نے جمعرات کو بتایا کہ ان کمانڈوز نے اروناچل پردیش میں کئی مقامات پر چینی فوج کے ساتھ جاری تعطل کے دوران اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر اپنی سکیورٹی اور آپریشنل تیاریوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ کپور کے مطابق، آئی ٹی بی پی کا منصوبہ ہے کہ ہر سرحدی بٹالین میں شوریہ کمانڈوز کو تعینات کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد فورس کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور حساس علاقوں میں تعینات اہلکاروں کو مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے مزید تیار رکھنا ہے۔
آئی ٹی بی پی بھارت اور چین کے درمیان سرحد کے اہم حصوں کی نگرانی اور حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی لمبائی تقریباً 3,488 کلومیٹر ہے۔ اس سرحد پر بلند پہاڑ، سخت موسم اور دشوار گزار راستے سکیورٹی اہلکاروں کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔ ایسے علاقوں میں تعینات جوانوں کو مسلسل گشت، نگرانی اور کسی بھی غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔
شتروجیت سنگھ کپور نے بتایا کہ شوریہ کمانڈوز نے اروناچل پردیش میں چینی فوج، یعنی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے)، کے ساتھ تعطل کے دوران اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ تاہم، دستیاب معلومات میں ان واقعات کی تاریخ، درست مقامات یا کمانڈوز کی جانب سے کی گئی کسی مخصوص کارروائی کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔
ہر سرحدی بٹالین میں شوریہ کمانڈوز کی تعیناتی کا منصوبہ آئی ٹی بی پی کی مجموعی تیاریوں کو بہتر بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ خصوصی تربیت یافتہ اہلکار دشوار گزار علاقوں میں تعینات یونٹس کی مدد کر سکتے ہیں اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کی صلاحیت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ٹی بی پی بھارت چین سرحد پر اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ تاہم، کمانڈوز کی مجموعی تعداد، تعیناتی کے شیڈول اور یونٹ کے مخصوص ڈھانچے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
