تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
کروڑ روپے کی مبینہ ادائیگی والی آڈیو پر راج ٹھاکرے کا بی جے پی پر حملہ، جانچ کا مطالبہ


مہاراشٹر کی سیاست میں ایک وائرل آڈیو ریکارڈنگ نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر مراٹھا ریزرویشن تحریک کے کارکن منوج جارنگے سے متعلق 500 کروڑ روپے کی ادائیگی کا ذکر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا (MNS) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

راج ٹھاکرے کا الزام ہے کہ میڈیا کو متاثر کرنے، سیاسی بحث کا رخ موڑنے اور مذہبی پولرائزیشن کے ذریعے عوام کی توجہ حساس معاملات سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، اگر وائرل آڈیو میں ہونے والی مبینہ گفتگو درست ثابت ہوتی ہے تو یہ جمہوری نظام اور آزاد میڈیا کے لیے ایک سنگین معاملہ ہوگا۔

تاہم، آڈیو میں کیے گئے دعووں، اس میں سنائی دینے والی آوازوں کی شناخت اور مبینہ مالی لین دین کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ان معاملات کی حقیقت جاننے کے لیے مکمل جانچ ضروری ہوگی۔

29 منٹ کی مبینہ آڈیو میں کیا ہے؟

راج ٹھاکرے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ تقریباً 29 منٹ کی آڈیو ریکارڈنگ مہاراشٹر میں وائرل ہو رہی ہے۔ اس ریکارڈنگ کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں بی جے پی سے وابستہ ایک عہدیدار، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے ایک سینئر رکن اور سوشل میڈیا سے وابستہ افراد کے درمیان گفتگو موجود ہے۔

مبینہ طور پر اس گفتگو میں سیاسی حکمت عملی، میڈیا پر اثر انداز ہونے اور مذہبی پولرائزیشن کے ذریعے حساس مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے جیسے موضوعات پر بات کی گئی ہے۔

راج ٹھاکرے نے اس معاملے کو جمہوریت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر ریکارڈنگ میں موجود گفتگو درست ثابت ہوتی ہے تو اس کی سنجیدگی سے جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے مبینہ طور پر 500 کروڑ روپے کی ادائیگی کے ذکر پر بھی وضاحت طلب کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف آڈیو کی صداقت معلوم کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس میں کیے گئے دعووں اور گفتگو کے پس منظر کی بھی جانچ کی جانی چاہیے۔

 منوج جارنگے نے آڈیو کا ایک حصہ کیا عام

یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب مراٹھا ریزرویشن تحریک کے کارکن منوج جارنگے نے جمعرات کو مبینہ ریکارڈنگ کا ایک حصہ عام کیا۔ جارنگے نے الزام لگایا کہ انہیں خاموش کرانے اور مراٹھا ریزرویشن تحریک کو کمزور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

مراٹھا ریزرویشن کا معاملہ مہاراشٹر کی سیاست میں طویل عرصے سے اہمیت رکھتا ہے۔ اس تحریک کے ذریعے ریزرویشن سے متعلق مطالبات پر حکومتوں اور سیاسی جماعتوں پر مسلسل دباؤ رہا ہے۔

ایسے میں جارنگے سے متعلق مبینہ مالی ادائیگی کی بات سامنے آنے کے بعد سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ تاہم، جارنگے کے الزامات اور آڈیو میں مبینہ طور پر کیے گئے دعووں کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

 ایکناتھ شندے کے بیٹے کا مبینہ ذکر

وائرل آڈیو کے ایک حصے میں مبینہ طور پر ایک خاتون کی آواز سنائی دینے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس آواز میں کہا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے بیٹے اور شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے کے ذریعے منوج جارنگے تک 500 کروڑ روپے پہنچائے گئے۔

ریکارڈنگ کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ اس میں مراٹھواڑہ علاقے میں جارنگے کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی حکمت عملی پر گفتگو ہوئی ہے۔

ان الزامات نے تنازع کو مزید اہم بنا دیا ہے، کیونکہ ان میں معروف سیاسی شخصیات کے نام لیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، مبینہ ادائیگی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ کسی غیر مصدقہ آڈیو میں کسی شخص کا نام آنے سے اس کی شمولیت یا کسی غلط کام میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملتا۔

راج ٹھاکرے نے دیویندر فڑنویس سے کیا مطالبہ کیا؟

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا ہے کہ آڈیو ریکارڈنگ کی فرانزک جانچ کرائی جائے گی۔ اس اعلان کے بعد راج ٹھاکرے نے سوال اٹھایا کہ کیا صرف ریکارڈنگ کی صداقت جانچنا کافی ہوگا۔

راج ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ جانچ کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے اور آڈیو میں مبینہ طور پر ہونے والی گفتگو کے موضوعات کی بھی تحقیقات کی جانی چاہیے۔ انہوں نے ریکارڈنگ کے ماخذ، اس میں سنائی دینے والی آوازوں کی شناخت، گفتگو کے پس منظر اور مبینہ مالی ادائیگی کے دعوے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کے مطابق، یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ آڈیو کہاں سے آئی، اسے کس نے ریکارڈ کیا، کیا اس میں کوئی تبدیلی کی گئی اور کیا مبینہ دعووں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے۔

بی جے پی نے آڈیو کے جعلی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا

دوسری جانب بی جے پی رہنماؤں نے آڈیو ریکارڈنگ کی صداقت اور اس کے عام ہونے کے وقت پر سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں نے خدشہ ظ…


دوسری جانب بی جے پی رہنماؤں نے آڈیو ریکارڈنگ کی صداقت اور اس کے عام ہونے کے وقت پر سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ریکارڈنگ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار یا تبدیل کی گئی ہو سکتی ہے۔

بی جے پی کے ترجمان نوناتھ بن نے بھی اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ آڈیو جعلی ہو سکتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے یہ جاننے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ ریکارڈنگ منوج جارنگے تک کیسے پہنچی اور اسے عام کرنے کے پیچھے کیا مقصد تھا۔

تاہم، آڈیو کے AI سے تیار ہونے کا دعویٰ بھی ابھی ثابت نہیں ہوا ہے۔ اس بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے تکنیکی جانچ ضروری ہوگی۔

 فرانزک جانچ سے کیا معلوم ہو سکتا ہے؟

فرانزک جانچ کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ آیا ریکارڈنگ میں ایڈیٹنگ، آواز میں تبدیلی یا مصنوعی آواز کے استعمال کے آثار موجود ہیں۔ تفتیش کار اصل ڈیجیٹل فائل، دستیاب میٹا ڈیٹا، آوازوں کے نمونوں اور دیگر تکنیکی شواہد کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

لیکن آڈیو کے اصلی ہونے کی تصدیق ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اس میں کیے گئے تمام دعوے بھی درست ہیں۔ مبینہ 500 کروڑ روپے کی ادائیگی ثابت کرنے کے لیے الگ مالی یا دستاویزی شواہد درکار ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح، ریکارڈنگ کے کسی ایک حصے کے بجائے پوری گفتگو اور اس کے پس منظر کا جائزہ لینا بھی اہم ہوگا، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں کسی بیان کو سیاق و سباق سے الگ کرکے تو پیش نہیں کیا گیا۔

 مہاراشٹر کی سیاست پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

منوج جارنگے مراٹھا ریزرویشن تحریک کے نمایاں چہروں میں شامل ہیں۔ اس لیے ان سے متعلق کسی بھی بڑے تنازع کا اثر ریاست میں ریزرویشن کے مطالبات اور سیاسی بحث پر پڑ سکتا ہے۔

راج ٹھاکرے کے الزامات، بی جے پی کی جانب سے آڈیو کی صداقت پر اٹھائے گئے سوالات اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے فرانزک جانچ کے اعلان نے معاملے کو سیاسی طور پر اہم بنا دیا ہے۔

تاہم، اس تنازع کے حقیقی اثرات کا انحصار جانچ کے نتائج اور سامنے آنے والے شواہد پر ہوگا۔ فی الحال اہم سوالات یہ ہیں کہ آیا آڈیو اصلی ہے، کیا مبینہ 500 کروڑ روپے کی ادائیگی کے حق میں کوئی ثبوت موجود ہے اور کیا ریکارڈنگ میں بیان کی گئی سیاسی حکمت عملی کی آزادانہ تصدیق ہو سکتی ہے۔

جب تک ان سوالات کے واضح جواب سامنے نہیں آتے، اس معاملے میں سامنے آنے والے دعووں کو الزامات ہی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

*میٹا ہیڈلائن:* 500 کروڑ کی مبینہ آڈیو پر راج ٹھاکرے کا بی جے پی پر حملہ

*میٹا ڈسکرپشن:* منوج جارنگے سے متعلق 500 کروڑ روپے کی مبینہ ادائیگی والی وائرل آڈیو پر راج ٹھاکرے نے بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ دیویندر فڑنویس نے فرانزک جانچ کی بات کہی، جبکہ بی جے پی نے AI کے ذریعے آڈیو میں تبدیلی کا خدشہ ظاہر کیا۔

*میٹا کی ورڈز:* راج ٹھاکرے، بی جے پی، منوج جارنگے، 500 کروڑ آڈیو، مہاراشٹر سیاست، دیویندر فڑنویس، شری کانت شندے، مراٹھا ریزرویشن، وائرل آڈیو، AI آڈیو، فرانزک جانچ، مہاراشٹر نیوز

News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·