تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط


دہلی میں یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی مجوزہ بڑی ریلی کو لے کر تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کو دوبارہ خط لکھ کر اپیل کی ہے کہ ریلی کو دیوالی کے بعد کسی تاریخ پر منعقد کیا جائے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس وقت دہلی کے بازاروں میں تہواروں کی خریداری کا سیزن جاری ہے۔ ایسے میں اگر ریلی کے انتظامات کے لیے سڑکوں پر بیریکیڈنگ کی گئی یا ٹریفک کی آمدورفت پر پابندیاں لگائی گئیں تو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔

سی ٹی آئی کے صدر برجیش گوئل نے راہل گاندھی کو لکھے گئے خط میں تاجروں کے خدشات بیان کیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق، دیوالی کے دوران دہلی کے بازاروں میں خریداروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور دوسرے شہروں سے بھی بڑی تعداد میں تاجر سامان خریدنے کے لیے پہنچتے ہیں۔ اگر بازاروں تک پہنچنے والے راستے بند ہوئے یا ٹریفک کو دوسرے راستوں پر منتقل کیا گیا تو دکان داروں، تھوک تاجروں اور گاہکوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

سی ٹی آئی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ریلی کے باعث پرانی دہلی اور اس کے آس پاس کے اہم تجارتی علاقوں میں کاروبار بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔ تنظیم کے اندازے کے مطابق، اگر کاروباری سرگرمیاں بڑے پیمانے پر رک گئیں تو تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ تاہم، یہ سی ٹی آئی کی جانب سے ظاہر کیا گیا خدشہ ہے، اسے حقیقی نقصان کی تصدیق شدہ رقم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ کیوں؟

سی ٹی آئی کے مطابق، مجوزہ ریلی میں تقریباً 10 لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ تنظیم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ریلی میں شرکت کے لیے 15 ہزار سے 20 ہزار بسیں اور دیگر گاڑیاں دہلی پہنچ سکتی ہیں۔ اگر اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاں دارالحکومت میں داخل ہوتی ہیں تو رام لیلا میدان اور اس کے آس پاس کی سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

تاجروں کی تشویش صرف ریلی کے مقام تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے آس پاس موجود بڑے تجارتی مراکز بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ دہلی کے اہم تھوک اور خوردہ بازاروں میں چاندنی چوک، بھگیرتھ پیلس، کھاری باولی، صدر بازار، چاؤڑی بازار، کشمیری گیٹ، نبی کریم اور کرول باغ شامل ہیں۔

ان بازاروں میں روزانہ بڑی تعداد میں خریدار، دکان دار، تھوک تاجر اور سامان پہنچانے والی گاڑیاں آتی جاتی ہیں۔ ان میں کئی ایسے تاجر بھی ہوتے ہیں جو دوسرے شہروں اور ریاستوں سے سامان خریدنے کے لیے دہلی پہنچتے ہیں۔ اگر ٹریفک جام ہوتا ہے یا سڑکیں بند کی جاتی ہیں تو ان کی آمدورفت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔

سی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ تہواروں کے اہم سیزن میں بازاروں تک رسائی مشکل ہونے سے فروخت میں کمی آسکتی ہے۔ سامان کی ترسیل میں تاخیر اور گاہکوں کی آمد میں کمی بھی کاروبار کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی ممکنہ صورت حال کی بنیاد پر تنظیم نے 10 ہزار کروڑ روپے تک کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

دیوالی کے سیزن میں کاروبار متاثر ہونے کی تشویش

دیوالی کا وقت دہلی کے تاجروں کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران لوگ کپڑے، الیکٹرانکس، گھریلو سامان، سجاوٹی اشیا، برتن، تحائف اور دیگر ضروری چیزوں کی خریداری کرتے ہیں۔ کئی دکان دار اور کاروباری ادارے تہواروں کے دوران ہونے والی زیادہ فروخت پر انحصار کرتے ہیں۔

تھوک بازاروں میں بھی اس دوران کاروباری سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ مختلف ریاستوں سے تاجر سامان خریدنے کے لیے دہلی آتے ہیں، جس سے نقل و حمل اور سامان کی ترسیل کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں اگر سڑکوں پر پابندیاں لگتی ہیں یا گاڑیوں کو متبادل راستوں پر بھیجا جاتا ہے تو گاہکوں کے ساتھ ساتھ کاروباری افراد کو بھی پریشانی ہوسکتی ہے۔

سی ٹی آئی کو خدشہ ہے کہ ریلی کی تیاریوں کے لیے 31 اکتوبر سے ہی بیریکیڈنگ اور ٹریفک انتظامات شروع ہوسکتے ہیں۔ اس سے ریلی سے ایک دن پہلے بھی بازاروں کی آمدورفت متاثر ہونے کا امکان ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر خریداروں کو بازاروں تک پہنچنے میں دشواری ہوئی تو وہ خریداری کے لیے وہاں آنے سے گریز کرسکتے ہیں۔

تنظیم نے اسی لیے اپیل کی ہے کہ ریلی کی تاریخ اور مقام کا فیصلہ کرتے وقت دیوالی کے کاروبار کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ تاجروں کے مطابق، مناسب منصوبہ بندی سے سیاسی پروگرام اور کاروباری سرگرمیاں دونوں جاری رکھی جاسکتی ہیں۔

 پہلے کے احتجاج کا بھی حوالہ دیا گیا

سی ٹی آئی نے اپنے خط میں 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر ہونے والے ایک احتجاج کا بھی حوالہ دیا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس احتجاج میں تقریباً 3 ہزار سے 4 ہزار افراد شریک ہوئے تھے، لیکن اس کے باوجود وسطی دہلی کے کچھ علاقوں میں آمدورفت اور کاروبار متاثر ہوا تھا۔ سی ٹی آئی کے مطابق، اس دوران تاجروں کو تقریباً 2 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔

تنظیم نے اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یکم نومبر کی مجوزہ ریلی میں اس سے کہیں زیادہ لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔ ایسے میں اگر ٹریفک اور آمدورفت کے انتظامات مؤثر نہ ہوئے تو بازاروں کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

تاہم، 2 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا یہ اعداد و شمار سی ٹی آئی کا دعویٰ ہے، اور دستیاب معلومات میں اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ اسی طرح 10 ہزار کروڑ روپے کے ممکنہ نقصان کا تخمینہ بھی حتمی یا تصدیق شدہ رقم نہیں ہے۔

 راہل گاندھی نے تاجروں کو کیا جواب دیا تھا؟

ریلی ملتوی کرنے کی اپیل ایسے وقت سامنے آئی ہے جب راہل گاندھی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پر تاجروں کے خدشات کا جواب دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تاجروں کی بات سنی جارہی ہے اور دہلی میں آمدورفت کی مشکلات کے لیے حکومت کے فیصلے ذمہ دار ہیں۔

راہل گاندھی نے الزام لگایا تھا کہ میٹرو خدمات بند کرنے، سڑکوں کو سیل کرنے اور دارالحکومت میں نقل و حرکت پر پابندیاں لگانے جیسے اقدامات سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔

راہل گاندھی نے کہا تھا کہ اگر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹا دیا جائے تو احتجاج 30 سیکنڈ میں ختم ہوسکتا ہے۔ یہ بیان راہل گاندھی کا سیاسی موقف اور ان کی جانب سے لگائے گئے الزامات ہیں۔

 سی ٹی آئی نے ریلی کا مقام تبدیل کرنے کی تجویز دی

سی ٹی آئی نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کو بھی اپنے خط کی ایک کاپی بھیجی ہے۔ تنظیم نے تجویز دی ہے کہ اگر ریلی کی تاریخ تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے تو اسے رام لیلا میدان کے بجائے کسی دوسرے مقام پر منعقد کیا جاسکتا ہے، جہاں قریبی بازاروں پر کم اثر پڑے۔

تاجروں نے اس سلسلے میں بُراڑی گراؤنڈ یا جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم جیسے مقامات تجویز کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ریلی کے لیے ایسا مقام منتخب کیا جائے جو بڑے تجارتی علاقوں سے دور ہو تو بازاروں میں ٹریفک اور کاروبار سے متعلق مشکلات کم کی جاسکتی ہیں۔

سی ٹی آئی نے زور دیا ہے کہ ریلی کے انعقاد سے پہلے ٹریفک، گاڑیوں کی پارکنگ اور راستوں کے انتظامات پر واضح منصوبہ بندی کی جائے۔ تنظیم کے مطابق، اس سے سیاسی پروگرام بھی منعقد ہوسکے گا اور بازاروں میں کاروباری سرگرمیوں کو غیر ضروری نقصان سے بچانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

مبینہ ووٹ چوری کے معاملے پر ہونی ہے ریلی

یکم نومبر کو ہونے والی مجوزہ ریلی کو انڈیا اتحاد کی اس مہم کا حصہ بتایا جارہا ہے جو مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے معاملے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے سے متعلق ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل پر سوالات اٹھا رہی ہیں اور اس معاملے کو اپنے سیاسی احتجاج کا اہم موضوع بنا رہی ہیں۔

ایک طرف اپوزیشن جماعتیں انتخابی اصلاحات کے مطالبے کو اہم قرار دے رہی ہیں، تو دوسری طرف دہلی کے تاجروں کو خدشہ ہے کہ ریلی کے انتظامات سے تہواروں کے دوران کاروبار متاثر ہوسکتا ہے۔ اس طرح ریلی کی تاریخ اور مقام کو لے کر سیاسی احتجاج اور تجارتی سرگرمیوں کے درمیان توازن کا سوال سامنے آیا ہے۔

 سی پی آئی کے رکن پارلیمنٹ پی سنتوش کمار نے کیا کہا؟

تاجروں کی جانب سے راہل گاندھی سے ریلی ملتوی کرنے کی اپیل پر سی پی آئی کے رکن پارلیمنٹ پی سنتوش کمار نے کہا کہ جمہوریت کے بغیر کاروبار کے بارے میں سوچنا ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق، تاجروں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ احتجاج صرف سیاسی جماعتوں کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کے دیگر طبقات کے لیے بھی ہے۔

انہوں نے اسے پورے ملک سے متعلق تحریک قرار دیا اور انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کے مطالبے کی بھی حمایت کی۔

ان کا بیان اپوزیشن کی مہم کے موقف کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ سی ٹی آئی کا مطالبہ دیوالی کے دوران کاروبار اور ٹریفک پر ممکنہ اثرات سے متعلق ہے۔

فی الحال، سی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ یکم نومبر کی ریلی کو دیوالی کے بعد منعقد کیا جائے یا اس کا مقام تبدیل کردیا جائے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار اور خریداروں کی آمدورفت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامات کیے جانے چاہئیں۔ ریلی کی تاریخ، مقام اور ٹریفک کے حتمی انتظامات کے بارے میں فیصلہ متعلقہ منتظمین اور حکام کی جانب سے کیا جائے گا۔

News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·